تحفۂ گولڑویہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 297 of 615

تحفۂ گولڑویہ — Page 297

روحانی خزائن جلد۱۷ ۲۹۷ تحفہ گولڑ و به اور ہمارے مولوی اور بعض عیسائی یہ خیال کر رہے ہیں کہ سچ سچ خود ہی وہ دوبارہ دنیا میں آجائے گا۔ اس جگہ ایک لطیفہ بیان کرنے کے لائق ہے جس سے ظاہر ہو گا کہ خدا تعالیٰ کے علم میں ایک زمانہ مقدر تھا جس میں فوت شدہ روحیں بروزی طور پر آنے والی تھیں اور وہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں یعنی سورۃ انبیاء جز و نمبر ۱۷ میں ایک پیشگوئی کی ہے جس کا یہ مطلب ہے کہ ہلاک شدہ لوگ یا جوج ماجوج کے زمانہ میں پھر دنیا میں رجوع کریں گے اور وہ یہ آیت ہے ۔ وَحَرُمُ عَلى قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَهَا أَنَّهُمْ لَا يَرْجِعُونَ - حَتَّى إِذَا فُتِحَتْ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ وَهُمْ مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُوْنَ - وَاقْتَرَبَ الْوَعْدُ الْحَقُّ اور اس کے اوپر کی یہ آیتیں ہیں ۔ وَالَّتِى اَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِيهَا مِنْ رُّوحِنَا وَ جَعَلْنَهَا وَ ابْنَهَا آيَةً لِلْعَلَمِينَ إِنَّ هَذِةٍ أُمَّتُكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَأَنَا رَبُّكُمْ فَاعْبُدُونِ ـ وَتَقَطَّعُوا | أَمْرَهُمْ بَيْنَهُمْ كُلَّ إِلَيْنَا رُجِعُوْنَ - فَمَنْ يَعْمَلْ مِنَ الصُّلِحَتِ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَا كُفْرَانَ لِسَعيه وَإِنَّا لَهُ كُتبونَ ۔ ترجمہ ان آیات کا یہ ہے کہ مریم نے جب اپنے اندام نہانی کو نامحرم سے محفوظ رکھا یعنی غایت درجہ کی پاکدامنی اختیار کی تو ہم نے اُس کو یہ انعام دیا کہ وہ بچہ اس کو عنایت کیا جو روح القدس کے نفخ سے پیدا ہوا تھا۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے جو دنیا میں بچے دو قسم کے پیدا ہوتے ہیں (۱) ایک جن میں نفخ روح القدس کا اثر ہوتا ہے اور ایسے بچے وہ ہوتے ہیں جب عورتیں پاکدامن اور پاک خیال ہوں اور اسی حالت میں استقرار نطفہ ہو وہ بچے پاک ہوتے ہیں حمد ہم نے بعض کا لفظ اس واسطے لکھا ہے کہ کل عیسائی اس پر متفق نہیں ہیں کہ مسیح دوبارہ دنیا میں آجائے گا بلکہ ایک گروہ عیسائیوں میں سے اس بات کا بھی قائل ہے کہ دوسرا مسیح کوئی اور ہے جو مسیح ابن مریم کے رنگ اور خو پر آئے گا۔ اسی وجہ سے عیسائیوں میں بعض نے جھوٹے دعوے کئے کہ وہ مسیح ہم ہیں ۔ منہ الانبياء : ۹۶ تا ۹۸ الانبياء : ۹۲ تا ۹۵