تحفۂ گولڑویہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 265 of 615

تحفۂ گولڑویہ — Page 265

روحانی خزائن جلد ۷ ۲۶۵ ۱۲۰۰ ایسی نازک ہو رہی ہے کہ دین مظہر ہزار ہا بدعات کے نیچے دب گیا ہے ۔ بارہ سو برس میں تو صرف تہتر فرقے اسلام کے ہو گئے تھے لیکن تیرھویں صدی نے اسلام میں وہ بدعات اور نئے فرقے پیدا کئے جو بارہ سو برس میں پیدا نہیں ہوئے تھے اور اسلام پر بیرونی حملے اس قدر زور شور سے ہو رہے ہیں کہ وہ لوگ جو صرف حالات موجودہ سے نتیجہ نکالتے ہیں اور آسمانی ارادوں سے ناواقف ہیں انہوں نے رائیں ظاہر کر دیں کہ اب اسلام کا خاتمہ ہے۔ ایسا عالی شان دین جس میں ایک شخص کے مرتد ہونے سے بھی شور قیامت قوم میں بر پا ہوتا تھا اب لاکھوں انسان دین سے باہر ہوتے جاتے ہیں اور صدی کا سرجس کی نسبت یہ بشارت تھی کہ اس میں مفاسد موجودہ کی اصلاح کے لئے کوئی شخص امت میں سے مبعوث ہوتا رہے گا اب مفاسد تو موجود ہیں بلکہ نہایت ترقی پر مگر بقول ہمارے مخالفوں کے ایسا شخص کوئی مبعوث نہیں ہوا جو ان مفاسد کی اصلاح کرتا جو ایمان کو کھاتے جاتے ہیں اور صدی میں سے قریباً پانچواں حصہ گذر بھی گیا گویا ایسی ضرورت کے وقت میں یہ پیشگوئی رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کی خطا گئی حالانکہ یہی وہ صدی تھی جس میں اسلام غریب تھا اور سراسر آسمانی تائید کا محتاج تھا اور یہی وہ صدی تھی جس کے سر پر ایسا شخص مبعوث ہونا چاہیے تھا جو عیسائی حملوں کی مدافعت کرتا اور صلیب پر فتح پا تا یا بہ تبدیل الفاظ یوں کہو کہ مسیح موعود ہو کر آتا اور کسر صلیب کرتا۔ سو خدا نے اس صدی پر یہ طوفان ضلالت دیکھ کر اور اس قدر روحانی موتوں کا مشاہدہ کر کے کیا انتظام کیا ؟ کیا کوئی شخص اس صدی کے سر پر صلیبی مفاسد کے توڑنے کے لئے پیدا ہوا ؟ اس میں کیا شک ہے کہ مرکز ضلالت ہندوستان تھا و اگر کوئی اپنے گھر کی چار دیوار سے چند روز کے لئے باہر جا کر مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ اور بلاد شام وغیرہ ممالک اسلامیہ کا سیر کرے تو وہ اس بات کی گواہی دے گا کہ جس قدر مختلف مذاہب کا مجموعہ آج کل ہمارا یہ ملک ہو رہا ہے اور جس قدر ہر یک مذہب کے لوگ دن رات ایک دوسرے پر حملہ کر رہے ہیں اس کی نظیر کسی ملک میں موجود نہیں ۔ منہ