تحفۂ گولڑویہ — Page 266
روحانی خزائن جلد ۷ ۲۶۶ تحفہ گولڑویہ کیونکہ اس ملک میں صد ہامذاہب فاسدہ اور ہزار ہابدعات مہلکہ جن کی نظیر کسی ملک میں نہیں پیدا ہو گئے ۔ اور آزادی نے جیسا کہ بدی کے لئے راہ کھولی ایسا ہی نیکی کے لئے بھی۔ لیکن چونکہ بدی کے مواد بہت جمع ہو رہے تھے اس لئے پہلے پہل بدی کو ہی اس آزادی نے قوت دی اور زمین میں اس قدر خار و خسک پیدا ہوا کہ قدم رکھنے کی جگہ نہ رہی ہر ایک عقل جو صاف ۔ اور پاک اور روح القدس سے مدد یافتہ ہے وہ سمجھ سکتی ہے کہ یہی زمانہ مسیح موعود کے پیدا ہونے کا تھا اور یہی صدی اس لائق تھی کہ اس میں وہ عیسی ابن مریم مبعوث ہوتا جو زمانہ حال کی صلیب پر فتح پاتا جو عیسائیوں کے ہاتھ میں ہے جیسا کہ گذشتہ عیسی ابن مریم نے اس صلیب پر فتح پائی تھی جو یہودیوں کے ہاتھ میں تھا۔ احادیث نبویہ میں اسی فتح کو کسر صلیب کے نام سے موسوم کیا گیا ہے۔ فتنہ صلیبیہ جس مرتبہ تک پہنچ چکا ہے وہ ایک ایسا مرتبہ ہے کہ غیرت الہی نہیں چاہتی کہ اس سے بڑھ کر اس کی ترقی ہو اس پر یہ دلیل کافی ہے کہ جس کمال سیلاب تک اس وقت یہ فتنہ موجود ہے اور جن انواع اقسام کے پہلوؤں سے اس فتنہ نے دین اسلام پر حملہ کیا ہے اور جس دلیری اور بیا کی کے ہاتھ سے عزت جناب نبوی پر اس فتنہ نے ہاتھ ڈالا ہے اور جن کامل تدبیروں سے اطفاء نور اسلام کے لئے اس فتنہ نے کام لیا ہے اس کی نظیر زمانہ کی کسی تاریخ میں موجود نہیں ۔ اور جن فتنوں کے وقت میں بنی اسرائیل (۱۰۳) میں نبی اور رسول آیا کرتے تھے یا اس امت میں مجد د ظاہر ہوتے تھے وہ تمام فتنے اس فتنہ کے آگے کچھ بھی چیز نہیں۔ اور یہ امران امور محسوسہ بدیہیہ میں سے ہے جن کا انکار نہیں ہو سکتا۔ اسلام کی تکذیب اور رد میں اس تیرھویں صدی میں بیس کروڑ کے قریب کتاب اور رسالے تالیف ہو چکے ہیں اور ہر ایک گھر میں نصرانیت داخل ہو گئی ہے تو کیا اس سوسال کے