تحفۂ گولڑویہ — Page 216
روحانی خزائن جلد۱۷ ۲۱۶ خادموں کی طرح اپنے تئیں سمجھتے تھے اُس وقت خدا تعالیٰ نے یہ پیشگوئی فرمائی جس کو کچھ بھی سہ عقل اور فہم سے ہے وہ سوچے اور سمجھے کہ کیا انسانی طاقتوں میں یہ بات داخل ہوسکتی ہے کہ جو طوفان بارہ برس کے بعد آنے والا تھا جس کا پُر زور سیلاب مولوی محمد حسین جیسے مدعی اخلاص کو درجہ ضلالت کی طرف کھینچ لے گیا اور نذیر حسین جیسے مخلص کو جو کہتا تھا کہ براہین احمدیہ جیسی اسلام میں کوئی کتاب تالیف نہیں ہوئی اس سیلاب نے دبا لیا اس طوفان کی پہلے مجھے یا کسی اور کو محض عقلی قرائن سے خبر ہوتی ۔ سو یہ خالص علم الہی ہے جس کو معجزہ کہتے ہیں ۔ غرض براہین احمدیہ کے اس الہام میں سورۃ مثبت کی پہلی آیت کا مصداق اس شخص کو ٹھہرایا ہے جس نے سب سے پہلے خدا کے مسیح موعود پر تکفیر اور تو ہین کے ساتھ حملہ کیا اور یہ دلیل اس بات پر ہے کہ قرآن شریف نے بھی اسی سورۃ میں ابولہب کے ذکر میں علاوہ دشمن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مسیح موعود کے دشمن کو بھی مراد لیا ہے ۔ اور یہ تفسیر اس الہام کے ذریعہ سے کھلی ہے جو آج سے بیس برس پہلے براہین احمدیہ میں درج ہو کر کروڑہا انسانوں یعنی عیسائیوں اور ہندوؤں اور مسلمانوں میں شائع ہو چکا تھا۔ اس لئے یہ تفسیر سراسر حقانی ہے اور تکلف اور تصنع سے پاک ہے اور ہر ایک صاحب عقل وانصاف کو اس بات میں شبہ نہ ہو گا کہ جبکہ خدا کے الہام نے آج سے ہیں برس پہلے ایک عظیم الشان پیشگوئی میں جو براہین احمدیہ کے صفحہ ۵۱۰ میں درج ہے اور کمال صفائی سے پوری ہو چکی ہے یہی معنے گئے ہیں تو ابن سعد نے اپنی کتاب طبقات میں اور ابو نعیم نے اپنی کتاب جلیہ میں ابی قلابہ سے روایت کی ہے کہ ابوالدرداء نے کہا ہے کہ انک لا تفقه كلّ الفقه حتى ترى للقرآن | وجوها یعنی تجھے کو قرآن کا پورا فہم کبھی عطا نہیں ہو گا جب تک تجھ پر یہ نہ کھلے کہ قرآن کئی وجوہ پر اپنے معنے رکھتا ہے۔ ایسا ہی مشکوۃ میں یہ مشہور حدیث ہے کہ قرآن کے لئے ظہر اور بطن ہے اور وہ علم اولین اور آخرین پر مشتمل ہے ۔ منہ