تحفۂ گولڑویہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 215 of 615

تحفۂ گولڑویہ — Page 215

روحانی خزائن جلد ۱۷ ۲۱۵ اشارہ کرتی ہے جو مظہر جمال احمدی یعنی احمد مہدی کا مکفر اور مکذب اور مہین ہو گا چنانچہ آج سے میں برس پہلے براہین احمدیہ کے صفحہ ۵۱۰ میں یہی آیت بطور الہام اس عاجز کے حق میں موجود ہے اور وہ الہام جو صفحہ مذکورہ کی ۱۹ اور ۲۲ سطر میں ہے یہ ہے۔ اذ یمکربک الذی كفر۔ اوقد لي يا هامان۔ لعلى اطلع على اله موسى۔ واني لاظنّه من الكاذبين ۔ تبت يدا أبي لهب وتب۔ ماكان له ان يدخل فيها الا خائفا وما اصابك فمن الله یعنی یاد کروہ زمانہ جبکہ ایک مولوی تجھ پر کفر کا فتویٰ لگائے گا اور اپنے کسی حامی کو جس کا لوگوں پر اثر پڑ سکے کہے گا کہ میرے لئے اس فتنہ کی آگ بھڑ کا یعنی ایسا کر اور اس قسم کا فتویٰ دے دے (۷۵) کہ تمام لوگ اس شخص کو کا فرسمجھ لیں تا میں دیکھوں کہ اس کا خدا سے کیا تعلق ہے یعنی یہ جو موسیٰ کی طرح اپنا کلیم اللہ ہونا ظاہر کرتا ہے کیا خدا اس کا حامی ہے یا نہیں اور میں خیال کرتا ہوں کہ یہ جھوٹا ہے۔ ہلاک ہو گئے دونوں ہاتھ ابی لہب کے (جب کہ اُس نے یہ فتویٰ لکھا ) اور وہ آپ بھی ہلاک ہو گیا اُس کو نہیں چاہیے تھا کہ اس کام میں دخل دیتا مگر ڈر ڈر کر اور جور نج تجھے پہنچے گا وہ تو خدا کی طرف سے ہے۔ یہ پیشگوئی قریباً فتویٰ تکفیر سے بارہ برس پہلے براہین احمدیہ میں شائع ہو چکی ہے یعنی جبکہ مولوی ابو سعید محمد حسین صاحب نے یہ فتویٰ تکفیر لکھا اور میاں نذیر حسین صاحب دہلوی کو کہا کہ سب سے پہلے اس پر مہر لگا دے اور میرے کفر کی نسبت فتویٰ دیدے اور تمام مسلمانوں میں میرا کافر ہو نا شائع کر دے۔ سواس فتویٰ اور میاں صاحب مذکور کے مُہر سے بارہ برس پہلے یہ کتاب تمام پنجاب اور ہندوستان میں شائع ہو چکی تھی اور مولوی محمد حسین جو بارہ برس کے بعد اول المکفرین بنے بانی تکفیر کے وہی تھے اور اس آگ کو اپنی شہرت کی وجہ سے تمام ملک میں سلگانے والے میاں نذیر حسین صاحب دہلوی تھے۔ اس جگہ سے خدا کا علم غیب ثابت ہوتا ہے کہ ابھی اس فتویٰ کا نام ونشان نہ تھا بلکہ مولوی محمد حسین صاحب میری نسبت