تحفۂ گولڑویہ — Page 195
روحانی خزائن جلد۱۷ ۱۹۵ اور نئی سواری کا استعمال اگر چہ بلاد اسلامیہ میں قریباً سو برس سے عمل میں آرہا ہے لیکن یہ پیشگوئی اب خاص طور پر مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کی ریل طیار ہونے سے پوری ہو جائے گی کیونکہ وہ ریل جو دمشق سے شروع ہو کر مدینہ میں آئے گی وہی مکہ معظمہ میں آئے گی اور اُمید ہے کہ بہت جلد اور صرف چند سال تک یہ کام تمام ہو جائے گا۔ تب وہ اونٹ جو تیرہ سو برس سے حاجیوں کو لے کر مکہ سے مدینہ کی طرف جاتے تھے یکدفعہ بے کار ہو جائیں گے اور ایک انقلاب عظیم عرب اور بلا دشام کے سفروں میں آجائے گا۔ چنانچہ یہ کام بڑی سرعت سے ہو رہا ہے اور تعجب نہیں کہ تین سال کے اندر اندر یہ ٹکڑا مکہ اور مدینہ کی راہ کا طیار ہو جائے اور حاجی لوگ بجائے بکرؤں کے پتھر کھانے کے طرح طرح کے میوے کھاتے ہوئے مدینہ منورہ میں پہنچا کریں بلکہ غالبا معلوم ہوتا ہے کہ کچھ تھوڑی ہی مدت میں اونٹ کی سواری تمام دنیا میں سے اُٹھ جائے گی اور یہ پیشگوئی ایک چمکتی ہوئی بجلی کی طرح تمام دنیا کو اپنا نظارہ دکھائے گی اور تمام دنیا اس کو بچشم خود دیکھے گی اور سچ تو یہ ہے کہ مکہ اور مدینہ کی ریل کا طیار ہو جانا گویا تمام اسلامی دنیا میں ریل کا پھر جانا ہے کیونکہ اسلام کا مرکز مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ ہے۔ ی چونکہ ریل کا وجود اور اونٹوں کا بیکار ہونا مسیح موعود کے زمانہ کی نشانی ہے اور مسیح کے ایک یہ بھی معنے ہیں کہ بہت سیاحت کرنے والا تو گویا خدا نے مسیح کے لئے اور اس کے نام کے معنے تحقق کرنے کے لئے اور نیز اس کی جماعت کے لئے جو اُسی کے حکم میں ہیں ریل کو ایک سیاحت کا وسیلہ پیدا کیا ہے تا وہ سیاحتیں جو پہلے مسیح نے ایک سو بیس برس تک بصد محنت پوری کی تھیں اس مسیح کے لئے صرف چند ماہ میں وہ تمام سیر و سیاحت میسر آ جائے اور یہ یقینی امر ہے کہ جیسے اس زمانہ کا ایک مامور من اللہ ریل کی سواری کے ذریعہ سے خوشی اور آرام سے ایک بڑے حصہ دنیا کا چکر لگا کر اور سیاحت کر کے اپنے وطن میں آسکتا ہے یہ سامان پہلے نبیوں کے لئے میسر نہیں تھا اس لئے مسیح کا مفہوم جیسے اس زمانہ میں جلد پورا ہو سکتا ہے کسی دوسرے زمانہ میں اس کی نظیر نہیں ۔ منہ التكوير: ۵