تحفۂ گولڑویہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 194 of 615

تحفۂ گولڑویہ — Page 194

روحانی خزائن جلد۱۷ ۱۹۴ عیسی اسرائیلی نہیں ہیں۔ سید احمد صاحب بریلوی سلسلہ خلافت محمد یہ کے بارھویں خلیفہ ہیں جو حضرت یحیی کے مثیل ہیں اور سید ہیں ۔ (۲) اور منجملہ ان دلائل کے جو میرے مسیح موعود ہونے پر دلالت کرتے ہیں خدا تعالیٰ کے وہ دونشان ہیں جو نیا کو کبھی نہیں بھولیں گے یعنی ایک وہ نشان جو آسمان میں ظاہر ہوا اور دوسرا وہ نشان جو زمین نے ظاہر کیا ۔ آسمان کا نشان خسوف کسوف ہے جو ٹھیک ٹھیک مطابق آیت کریمہ وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ اور نیز دارقطنی کی (۱۳) حدیث کے موافق رمضان میں واقع ہوا ۔ اور زمین کا نشان وہ ہے جس کی طرف یہ آیت کریمه قرآن شریف کی یعنی وَإِذَا الْعِشَارُ عُظِلت سے اشارہ کرتی ہے جس کی تصدیق میں مسلم میں یہ حدیث موجود ہے ویترک القلاص فلا يسعى عليها خسوف کسوف کا نشان تو کئی سال ہوئے جو دو مرتبہ ظہور میں آگیا۔ اور اونٹوں کے چھوڑے جانے شوکانی اپنی کتاب توضیح میں لکھتا ہے کہ آثار واردہ جو سیح اور مہدی کے بارے میں ہیں وہ رفع کے حکم میں ہیں کیونکہ پیشگوئیوں میں اجتہاد کو راہ نہیں مگر میں کہتا ہوں کہ بہت سی پیشگوئیاں مہدی اور مسیح کے بارے میں ایسی ہیں جو باہم تناقض رکھتی ہیں یا قرآن شریف کے مخالف ہیں یا سنت اللہ کی ضد ہیں اس صورت میں اگر ان کا رفع بھی ہوتا تاہم بعض اُن میں سے ہرگز قبول کے لائق نہ تھیں ۔ ہاں حسب اقرار شوکانی صاحب کسوف خسوف کی پیشگوئی بلا شبہ رفع کے حکم میں ہے بلکہ یہ پیشگوئی مرفوع متصل حدیث سے بھی صد با درجہ قوی تر ہے کیونکہ اس نے اپنے وقوع سے اپنی سچائی آپ ظاہر کر دی اور قرآن شریف نے اس کے مضمون کی تصدیق کی اور نیز قرآن شریف نے اس کے مقابل کی ایک اور پیشگوئی بیان فرمائی یعنی اونٹوں کے بیکار ہونے کی پیشگوئی۔ اس زمینی نشان کا ذکر آسمانی نشان یعنی کسوف خسوف کا مصدق ہے کیونکہ یہ دونوں نشان ایک دوسرے کے مقابل پڑے ہیں اور ایسا ہی توریت کے بعض صحیفوں میں اس کی تصدیق موجود ہے اور یہ مرتبہ ثبوت کا کسی دوسری حدیث مرفوع متصل کو جس کے ساتھ یہ لوازم نہ ہوں حاصل نہیں ۔ منہ ☆ القيمة: ١٠ التكوير: ۵