تحفۂ گولڑویہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 196 of 615

تحفۂ گولڑویہ — Page 196

روحانی خزائن جلد ۱۷ ۱۹۶ اگر سوچ کر دیکھا جائے تو اپنی کیفیت کی رو سے خسوف کسوف کی پیشگوئی اور اونٹوں کے متروک ہونے کی پیشگوئی ایک ہی درجہ پر معلوم ہوتی ہیں کیونکہ جیسا کہ خسوف کسوف کا نظارہ کروڑہا انسانوں کو اپنا گواہ بنا گیا ہے ایسا ہی اونٹوں کے متروک ہونے کا نظارہ بھی ہے بلکہ یہ نظارہ (۲۵) کسوف خسوف سے بڑھ کر ہے کیونکہ خسوف کسوف صرف دو مرتبہ ہو کر اور صرف چند گھنٹہ تک رہ کر دنیا سے گذر گیا مگر اس نئی سواری کا نظارہ جس کا نام ریل ہے ہمیشہ یاد دلاتا رہے گا کہ پہلے اونٹ ہوا کرتے تھے ۔ ذرہ اس وقت کو سوچو کہ جب مکہ معظمہ سے کئی لاکھ آدمی ریل کی سواری میں ایک ہیئت مجموعی میں مدینہ کی طرف جائے گا یا مدینہ سے مکہ کی طرف آئے گا تو اس نئی طرز کے قافلہ میں عین اس حالت میں جس وقت کوئی اہل عرب یہ آیت پڑھے گا کہ وَاِذَا الْعِشَارُ عُظلت لا یعنی یاد کروہ زمانہ جب کہ اونٹیاں بیکار کی جائیں گی اور ایک حمل دار اونٹنی کا بھی قدر نہ رہے گا جو اہل عرب کے نزدیک بڑی قیمتی تھی اور یا جب کوئی حاجی ریل پر سوار ہو کر مدینہ کی طرف جاتا ہوا یہ حدیث پڑھے گا کہ ویترك القلاص فلا يُسعى عليها یعنی مسیح موعود کے زمانہ میں اونٹنیاں بے کار ہو جائیں گی اور اُن پر کوئی سوار نہیں ہوگا تو سننے والے اس پیشگوئی کو سن کر کس قدر وجد میں آئیں گے اور کس قدر ان کا ایمان قوی ہوگا۔ جس شخص کو عرب کی پرانی تاریخ سے کچھ واقفیت ہے وہ خوب جانتا ہے کہ اونٹ اہل عرب کا بہت پرانا رفیق ہے اور عربی زبان میں ہزار کے قریب اونٹ کا نام ہے اور اونٹ سے اس قدر قدیم تعلقات اہل عرب کے پائے جاتے ہیں کہ میرے خیال میں ہیں ہزار کے قریب عربی زبان میں ایسا شعر ہوگا جس میں اونٹ کا ذکر ہے اور خدا تعالیٰ خوب جانتا تھا کہ کسی پیشگوئی میں اونٹوں کے ایسے انقلاب عظیم کا ذکر کرنا اس سے بڑھ کر اہل عرب کے دلوں پر اثر ڈالنے کے لئے اور پیشگوئی کی عظمت اُن کی طبیعتوں میں بٹھانے کے لئے اور کوئی راہ نہیں۔ اسی وجہ سے یہ عظیم الشان پیشگوئی قرآن شریف میں ذکر کی گئی ہے جس سے ہر ایک مومن کو خوشی سے التكوير :