تحفۂ گولڑویہ — Page 189
روحانی خزائن جلد۱۷ ۱۸۹ امن کے ساتھ بدل دے گا ۔ سو یہی خوف یشوع بن نون کو بھی پیش آیا تھا اور جیسا کہ اس کو خدا کی کلام سے تسلی دی گئی ایسا ہی ابو بکر رضی اللہ عنہ کو بھی خدا کی کلام سے تسلی دی گئی اور چونکہ ہر ایک سلسلہ میں خدا کا یہ قانون قدرت ہے کہ اس کا کمال تب ظاہر ہوتا ہے کہ جب آخر حصہ سلسلہ کا پہلے حصہ سے مشابہ ہو جائے اس لئے ضروری ہوا کہ موسوی اور محمدی سلسلہ کا پہلا خلیفہ موسوی اور محمدی سلسلہ کے آخری خلیفہ سے مشابہ ہو کیونکہ کمال ہر ایک چیز کا استدار جس کو چاہتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ تمام بسا ئط گول شکل پر پیدا کئے گئے ہیں تا خدا کے ہاتھ کی پیدا کی ہوئی چیز میں ناقص نہ ہوں ۔ اسی بنا پر جمع استدارت کے لفظ سے میری مراد یہ ہے کہ جب ایک دائرہ پورے طور پر کامل ہو جاتا ہے تو جس نقطہ سے شروع ہوا تھا اسی نقطہ سے جاملتا ہے اور جب تک اس نقطہ کو نہ ملے تب تک اُس کو دائرہ کاملہ نہیں النور : ۵۶ کہہ سکتے ۔ پس آخری نقطہ کا پہلے نقطہ سے جاملنا وہی امر ہے جس کو دوسرے لفظوں میں مشابہت تامہ کہا کرتے ہیں۔ پس جیسا کہ حضرت عیسی علیہ السلام کو یشوع بن نون سے مشابہت تھی یہاں تک کہ ۶ ) نام میں بھی تشابہ تھا ایسا ہی حضرت ابو بکر اور مسیح موعود کو بعض واقعات کے رُو سے بشدت مشابہت ہے اور وہ یہ کہ ابو بکر کو خدا نے سخت فتنہ اور بغاوت اور مفتریوں اور مفسدوں کے عہد میں خلافت کے لئے مقرر کیا تھا ایسا ہی مسیح موعود اس وقت ظاہر ہوا کہ جبکہ تمام علامات صغریٰ کا طوفان ظہور میں آپ کا تھا اور کچھ کبری میں سے بھی۔ اور دوسری مشابہت یہ ہے کہ جیسا کہ خدا نے حضرت ابوبکر کے وقت میں خوف کے بعد امن پیدا کر دیا اور بر خلاف دشمنوں کی خواہشوں کے دین کو جماد یا ایسا ہی مسیح موعود کے وقت میں بھی ہو گا کہ اس طوفانِ تکذیب اور تکفیر اور تفسیق کے بعد یکد فعہ لوگوں کو محبت اور ارادت کی طرف میلان دیا جائے گا اور جب بہت سے نور نازل ہوں گے اور ان کی آنکھیں کھلیں گی تو وہ معلوم کریں گے کہ ہمارے اعتراض کچھ چیز نہ تھے اور ہم نے اپنے اعتراضوں میں بجز