تحفۂ گولڑویہ — Page 190
روحانی خزائن جلد۱۷ 19+ ماننا پڑتا ہے کہ زمین کی شکل بھی گول ہے کیونکہ دوسری تمام شکلیں کمال نام کے مخالف ہیں اور (1) جو چیز خدا کے ہاتھ سے بلا واسطہ نکلی ہے اس میں مناسب حال مخلوقیت کے کمال تام ضرور چاہیے تا اس کا نقص خالق کے نقص کی طرف عائد نہ ہو اور نیز اس لئے بسائط کا گول رکھنا خدا تعالیٰ نے پسند کیا کہ گول میں کوئی جہت نہیں ہوتی۔ اور یہ امر توحید کے بہت مناسب حال ہے۔ غرض صنعت کا کمال مدوّر شکل سے ہی ظاہر ہوتا ہے کیونکہ اس میں انتہائی نقطہ اس قدر اپنے کمال کو دکھلاتا ہے کہ پھر اپنے مبدء کو جا ملتا ہے۔ اب ہم پھر اپنے اصل مدعا کی طرف رجوع کر کے لکھتے ہیں کہ ہمارے مذکورہ بالا بیان سے یقینی اور قطعی طور پر ثابت ہو گیا کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو جو حضرت سیدنا اس کے اور کچھ نہ دکھلا یا جو اپنے سطحی خیال اور موٹی عقل اور حسد اور تعصب کے زہر کولوگوں پر ظاہر کر دیا۔ اور پھر اس کے بعد ابو بکر اور مسیح موعود میں یہ مشابہت ظاہر کر دی جائے گی کہ اس دین کو جس کی مخالف بیخ کنی کرنا چاہتے ہیں زمین پر خوب جمادیا جائے گا اور ایسا مستحکم کیا جائے گا کہ پھر قیامت تک اس میں تزلزل نہیں ہوگا۔ اور پھر تیسری مشابہت یہ ہوگی کہ جو شرک کی ملونی مسلمانوں کے عقیدوں میں مل گئی تھی وہ بکلی اُن کے دلوں میں سے نکال دی جائے گی ۔ اس سے مراد یہ ہے کہ شرک کا ایک بڑا حصہ جو مسلمانوں کے عقائد میں داخل ہو گیا تھا یہاں تک کہ دجال کو بھی خدائی کی صفتیں دی گئی تھیں اور حضرت مسیح کو ایک حصہ مخلوق کا خالق سمجھا گیا تھا یہ ہر ایک قسم کا شرک دور کیا جائے گا جیسا کہ آیت يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ في شَيْئًا سے مستنبط ہوتا ہے۔ ایسا ہی اس پیشگوئی سے جو مسیح موعود اور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ میں مشترک ہے یہ بھی سمجھا جاتا ہے کہ جس طرح شیعہ لوگ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی تکفیر کرتے ہیں اور اُن کے مرتبہ اور بزرگی سے منکر ہیں ایسا ہی مسیح موعود کی تکفیر بھی کی جائے گی اور ان کے مخالف ان کے مرتبہ ولایت سے انکار کریں گے کیونکہ اس پیشگوئی کے اخیر میں یہ آیت ہے وَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ فَأُولَيكَ هُمُ الْفَسِقُونَ اور اس آیت کے معنے جیسا کہ روافض کی و النور : ۵۶