تحفۂ گولڑویہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 188 of 615

تحفۂ گولڑویہ — Page 188

روحانی خزائن جلد۱۷ ۱۸۸ دوسرا طوفان اس کو قوت دینے والا ہو گیا۔ یہ طوفان یوشع کے طوفان سے کچھ کم نہ تھا بلکہ بہت زیادہ تھا اور پھر جیسا کہ خدا کی کلام نے حضرت یوشع کو قوت دی اور فرمایا کہ جہاں جہاں تو جاتا ہے میں تیرے ساتھ ہوں تو مضبوط ہو اور دلاور بن جا اور بے دل مت ہو۔ تب میشوع میں بڑی قوت اور استقلال اور وہ ایمان پیدا ہو گیا جو خدا کی تسلی کے ساتھ پیدا ہوتا ہے۔ ایسا ہی حضرت ابو بکر کو بغاوت کے طوفان کے وقت خدا تعالیٰ سے قوت ملی ۔ جس شخص کو اس زمانہ کی اسلامی تاریخ پر اطلاع ہے وہ گواہی دے سکتا ہے کہ وہ طوفان ایسا سخت طوفان تھا کہ اگر خدا کا ہاتھ ابو بکر کے ساتھ نہ ہوتا اور اگر در حقیقت اسلام خدا کی طرف سے نہ ہوتا اور اگر در حقیقت ابوبکر خلیفہ حق نہ ہوتا تو اس دن اسلام کا خاتمہ ہو گیا تھا مگر یشوع نبی کی طرح خدا کے پاک کلام سے ابو بکر صدیق کو قوت ملی کیونکہ خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں اس ابتلا کی پہلے سے خبر دے رکھی تھی ۔ چنانچہ جو شخص اس آیت مندرجہ ذیل کو غور سے پڑھے گا وہ یقین کر لے گا کہ بلاشبہ اس ابتلا کی خبر قرآن شریف میں پہلے سے دی گئی تھی اور وہ خبر یہ ہے کہ وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ امَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِّنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنَّا يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا وَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذلِكَ فَأُولَيكَ هُمُ الفَسِقُونَ بالعنی خدا نے مومنوں کو جو نیکو کار ہیں وعدہ دے رکھا ہے جو ان کو خلیفے بنائے گا انہی خلیفوں کی مانند جو پہلے بنائے تھے اور اُسی سلسلہ خلافت کی مانند سلسلہ قائم کرے گا جو حضرت موسیٰ کے بعد قائم کیا تھا اور اُن کے دین کو یعنی اسلام کو جس پر وہ راضی ہوا زمین پر جما دے گا اور اُس کی جڑ لگا دے گا اور خوف کی حالت کو امن کی حالت کے ساتھ بدل دے گا۔ وہ میری پرستش کریں گے کوئی دوسرا میرے ساتھ نہیں ملائیں گے۔ دیکھو اس آیت میں صاف طور پر فرما دیا ہے کہ خوف کا زمانہ بھی آئے گا اور امن جاتا رہے گا مگر خدا اس خوف کے زمانہ کو پھر النور : ۵۶