تحفۂ گولڑویہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 184 of 615

تحفۂ گولڑویہ — Page 184

روحانی خزائن جلد ۱۷ ۱۸۴ عقیدہ باطلہ حیات مسیح کے مقابلہ میں خاتم الخلفاء کو پیش آنی چاہیے تھی ان تمام شبہات کو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کمال صفائی سے حل کر دیا اور تمام صحابہ میں سے ایک فرد بھی ایسا نہ رہا جس کا گذشتہ انبیاء علیہم السلام کی موت پر اعتقاد نہ ہو گیا ہو بلکہ تمام امور میں تمام صحابہ نے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی ایسی ہی اطاعت اختیار کر لی جیسا کہ حضرت موسیٰ کی وفات کے بعد بنی اسرائیل نے حضرت یشوع بن نون کی اطاعت کی تھی اور خدا بھی موسیٰ اور یشوع بن نون کے نمونہ پر جس طرح آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا اور آپ کا حامی اور مؤید تھا۔ ایسا ہی ابو بکر صدیق کا حامی اور مؤید ہو گیا۔ در حقیقت خدا نے یشوع بن نون کی طرح اس کو ایسا مبارک کیا جو کوئی دشمن اس کا مقابلہ نہ کر سکا اور اسامہ کے لشکر کا نا تمام کام جو حضرت موسیٰ کے نا تمام کام سے مشابہت رکھتا تھا حضرت ابو بکر کے ہاتھ پر پورا کیا۔ اور حضرت ابوبکر کی حضرت یشوع بن نون کے ساتھ ایک اور عجیب مناسبت یہ ہے جو حضرت موسیٰ کی موت کی اطلاع سب سے پہلے حضرت یوشع کو ہوئی اور خدا نے بلا توقف اُن کے دل میں وحی نازل کی جو موسیٰ مر گیا تا یہود حضرت موسیٰ کی موت کے بارے میں کسی غلطی یا اختلاف میں نہ پڑ جائیں جیسا کہ یشوع کی کتاب باب اوّل سے ظاہر ہے اسی طرح سب سے پہلے آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی موت پر حضرت ابوبکر نے یقین کامل ظاہر کیا اور آپ کے جسدِ مبارک پر بوسہ دے کر کہا کہ تو زندہ بھی پاک تھا اور موت کے بعد بھی پاک ہے اور پھر وہ خیالات جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے بارے میں بعض صحابہ کے دل میں پیدا ہو گئے تھے ایک عام جلسہ میں قرآن شریف کی آیت کا حوالہ دے کر اُن تمام خیالات کو دور کر دیا اور ساتھ ہی اس غلط خیال کی بھی بیخ کنی کر دی جو حضرت مسیح کی حیات کی نسبت احادیث نبویہ میں پوری غور نہ کرنے کی وجہ سے بعض کے دلوں میں پایا جاتا تھا اور جس طرح ۵۸) حضرت یشوع بن نون نے دین کے سخت دشمنوں اور مفتریوں اور مفسدوں کو ہلاک کیا تھا