تحفۂ گولڑویہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 185 of 615

تحفۂ گولڑویہ — Page 185

۱۸۵ روحانی خزائن جلد۱۷ اسی طرح بہت سے مفسد اور جھوٹے پیغمبر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ سے مارے گئے اور جس طرح حضرت موسیٰ راہ میں ایسے نازک وقت میں فوت ہو گئے تھے کہ جب ابھی بنی اسرائیل نے کنعانی دشمنوں پر فتح حاصل نہیں کی تھی اور بہت سے مقاصد باقی تھے اور اردگرددشمنوں کا شور تھا جو حضرت موسیٰ کی وفات کے بعد اور بھی خطرناک ہو گیا تھا ایسا ہی ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ایک خطرناک زمانہ پیدا ہو گیا تھا۔ کئی فرقے عرب کے مرتد ہو گئے تھے بعض نے زکوۃ دینے سے انکار کر دیا تھا اور کئی جھوٹے پیغمبر کھڑے ہو گئے تھے اور ایسے وقت میں جو ایک بڑے مضبوط دل اور مستقل مزاج اور قومی الایمان اور دلاور اور بہادر خلیفہ کو چاہتا تھا حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ خلیفہ مقرر کئے گئے اور ان کو خلیفہ ہوتے ہی بڑے غموں کا سامنا ہوا جیسا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا قول ہے کہ بباعث چند در چند فتنوں اور بغاوت اعراب اور کھڑے ہونے جھوٹے پیغمبروں کے میرے باپ پر جبکہ وہ خلیفہ رسول اللہ مسلم مقرر کیا گیا وہ مصیبتیں پڑیں اور وہ غم دل پر نازل ہوئے کہ اگر وہ غم کسی پہاڑ پر پڑتے تو وہ بھی گر پڑتا اور پاش پاش ہو جاتا اور زمین سے ہموار ہو جاتا مگر چونکہ خدا کا یہ قانون قدرت ہے کہ جب خدا کے رسول کا کوئی خلیفہ اس کی موت کے بعد مقرر ہوتا ہے تو شجاعت اور ہمت اور استقلال اور فراست اور دل قوی ہونے کی روح اس میں پھونکی جاتی ہے جیسا کہ یشوع کی کتاب باب اوّل آیت ۶ میں حضرت یشوع کو اللہ تعالی فرماتا ہے کہ مضبوط ہو اور دلاوری کر یعنی موسیٰ تو مر گیا اب تو مضبوط ہو جاتے یہی حکم قضا و قدر حمد خدا تعالیٰ کے حکم دو قسم کے ہوتے ہیں ایک شرعی جیسا یہ کہ تو خون نہ کر، چوری نہ کر ، جھوٹی گواہی مت دے۔ دوسری قسم حکم کی قضا و قدر کے حکم ہیں جیسا کہ یہ حکم کہ قلنا بنار كونى بَرْدًا وَ سَلَمَّا عَلَى إِبْرهِيمَ : شرعی حکم میں محکوم کا تخلف حکم سے جائز ہے جیسا کہ بہتیرے باوجود حکم شرعی پانے کے خون بھی کرتے ہیں، چوری بھی کرتے ہیں، جھوٹی گواہی بھی دیتے ہیں مگر قضا و قدر کے حکم میں ہرگز تخلف جائز نہیں ۔ انسان تو انسان قدری حکم سے جمادات بھی تخلف نہیں کر سکتے کیونکہ جبر وتی کشش اس کے ساتھ ہوتی ہے۔ سو حضرت یشوع کو خدا کا یہ حکم کہ مضبوط دل ہو جاقدری حکم تھا یعنی قضاء وقد ر کا حکم ۔ وہی حکم حضرت ابوبکر کے دل پر بھی نازل ہوا تھا۔ منہ الانبياء: ٧٠