تحفۂ گولڑویہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 183 of 615

تحفۂ گولڑویہ — Page 183

روحانی خزائن جلد۱۷ ۱۸۳ تفصیل اس دلیل کی یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کا مثیل ٹھہرایا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد جو مسیح موعود تک سلسلہ خلافت ہے اس سلسلہ کو خلافت موسویہ کے سلسلہ سے مشابہ قرار دیا ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے إِنَّا أَرْسَلْنَا إِلَيْكُمْ رَسُولًا شَاهِدًا عَلَيْكُمْ كَمَا أَرْسَلْنَا إِلَى فِرْعَوْنَ رَسُولًا یعنی ہم نے یہ پیغمبر اسی پیغمبر کی مانند تمہاری طرف بھیجا ہے کہ جو فرعون کی طرف بھیجا گیا تھا۔ اور یہ اس بات کا گواہ ہے کہ تم کیسی ایک سرکش اور متکبر قوم ہو جیسے کہ فرعون متکبر اور سرکش تھا۔ یہ تو وہ آیت ہے جس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مماثلت حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ثابت ہوتی ہے لیکن جس آیت سے دونوں سلسلوں یعنی سلسلہ خلافت موسویہ اور سلسلہ خلافت محمدیہ میں مماثلت ثابت ہے یعنی جس سے قطعی اور یقینی طور پر سمجھا جاتا ہے کہ سلسلۂ نبوت محمد یہ کے خلیفے سلسلہ نبوت موسویہ کے مشابہ و مماثل ہیں وہ یہ آیت ہے وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ الخَ یعنی خدا نے اُن ایمانداروں سے جو نیک کام بجالاتے ہیں وعدہ کیا ہے جو اُن میں سے زمین پر خلیے مقرر کرے گا انہی خلیفوں کی مانند جو اُن سے پہلے کئے تھے ۔ اب جب ہم مانند کے لفظ کو پیش نظر رکھ کر دیکھتے ہیں جو محمدی خلیفوں کی موسوی خلیفوں سے مماثلت واجب کرتا ہے تو ہمیں ماننا پڑتا ہے جو ان دونوں سلسلوں کے خلیفوں میں مماثلث ضروری ہے اور مماثلت کی پہلی بنیاد ڈالنے والا حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ ہے اور مماثلت کا آخری نمونہ ظاہر کرنے والا وہ مسیح خاتم خلفاء محمد یہ ہے جو سلسلہ خلافت محمدیہ کا سب سے آخری خلیفہ ہے۔ سب سے پہلا خلیفہ جو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ہے وہ حضرت یوشع بن نون کے مقابل اور اُن کا مثیل ہے جس کو خدا نے آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد خلافت کے لئے اختیار کیا اور سب سے زیادہ فراست کی روح اُس میں پھونکی یہاں تک کہ وہ مشکلات جو المزمل: ١٦ النور: ۵۶