تحفۂ گولڑویہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 157 of 615

تحفۂ گولڑویہ — Page 157

روحانی خزائن جلد ۱۷ ۱۵۷ کرتے ہیں کہ وہ صحیح حدیث بطور کشف براہ راست رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کرتے تھے اور اس ذریعہ سے کبھی صحیح حدیث کو موضوع کہہ دیتے تھے اور کبھی موضوع کا نام صحیح رکھتے تھے۔ پس سوچو اور سمجھو کہ جس شخص کے ذمہ اسلام کے۷۳ فرقوں کی نزاعوں کا فیصلہ کرنا ہے کیا وہ محض مقلد کے طور پر دنیا میں آسکتا ہے۔ پس یقیناً سمجھو کہ یہ ضروری تھا کہ وہ ایسے طور سے آتا کہ بعض نادان اس کو یہ سمجھتے کہ گویا وہ اُن کی بعض حدیثوں کو زیر وزبر کر رہا ہے یا بعض کو نہیں مانتا اسی ۴۲ لئے تو آثار میں پہلے سے آچکا ہے کہ وہ کا فرٹھہرایا جائے گا اور علماء اسلام اُس کو دائرہ اسلام سے خارج کریں گے اور اس کی نسبت قتل کے فتوے جاری ہوں گے۔ کیا تمہارا مسیح بھی میری طرح کا فر اور دجال ہی کہلائے گا ؟ اور کیا علماء میں اُس کی یہی عزت ہوگی؟ خدا سے خوف کر کے بتلاؤ کہ ابھی یہ پیشگوئی پوری ہوگئی یا نہیں ۔ ظاہر ہے کہ جبکہ مسیح اور مہدی کی تکفیر تک نوبت پہنچے گی اور علمائے کرام اور صوفیائے عظام اُن کا نام کا فر اور دجال اور بے ایمان اور دائرہ اسلام سے خارج رکھیں گے تو کیا کسی ادنیٰ سے ادنیٰ اختلاف پر یہ شور قیامت برپا ہوگا یہاں تک کہ بجز چند افراد کے تمام علماء اسلام جو زمین پر رہتے ہیں سب اتفاق کر لیں گے کہ یہ شخص کافر ہے یہ پیشگوئی بڑے غور کے لائق ہے کیونکہ بڑے زور سے آپ لوگوں نے اپنے ہاتھوں سے اُس کو پورا کر دیا ہے۔ یادر ہے کہ یہ شبہات کہ کیوں صحاح ستہ کی وہ تمام حدیثیں جو مہدی اور مسیح موعود کے بارے میں لکھی ہیں اس جگہ صادق نہیں آتیں اس سوال سے حل ہو جاتی ہیں کہ کیوں اخبار و آثار میں یہاں تک کہ مکتوبات مجد وصاحب سرہندی اور فتوحات مکیہ اور حجج الکرامه میں لکھا ہے کہ مہدی اور مسیح کی علمائے وقت سخت مخالفت کریں گے اور ان کا نام گمراہ اور ملحد اور کافر اور دجال رکھیں گے اور کہیں گے کہ انہوں نے دین کو بگاڑ دیا اور احادیث کو چھوڑ دیا اس لئے وہ واجب القتل ہیں کیونکہ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ضرور ہے کہ آنے والے مسیح اور مہدی بعض حدیثوں کو جو علماء کے نزدیک صحیح ہیں چھوڑ دیں گے بلکہ اکثر کو چھوڑیں گے