تحفۂ گولڑویہ — Page 156
روحانی خزائن جلد ۷ ۱۵۶ خستگانِ دیں مرا از آسماں طلبیده اند آمدم وقتے کہ دلہا خوں زغم گردیده اند دعوئے مارا فروغ از صد نشا نہا داده اند مہر و مہ هم از پیئے تصدیق ما استاده اند کچھ ایسے عقل پر پردے پڑ گئے ہیں کہ بار بار یہی عذر پیش کرتے ہیں کہ حدیثوں کے مطابق اس شخص کا دعوی نہیں ۔ اے قابل رحم قوم ! میں کب تک تمہیں سمجھاؤں گا۔ خدا تمہیں ضائع ہونے سے بچاوے آپ لوگ کیوں نہیں سمجھتے اور میں کیونکر دلوں کو چاک کر کے سچائی کا نور اُن میں ڈال دوں ۔ کیا ضرور نہ تھا کہ مسیح حکم ہو کر آتا۔ اور کیا مسیح پر یہ فرض تھا کہ باوجود اس کے کہ خدا نے اُس کو صحیح علم دیا پھر بھی وہ تمہاری ساری حدیثوں کو مان لیتا کیا اس کو ادنی سے ادنی محدث کا درجہ بھی نہیں دیا گیا اور اس کی تنقید جو علم لدنی پر مبنی ہے اس کا کچھ بھی اعتبار نہیں اور کیا اس پر واجب ہے کہ پہلے ناقدین حدیث کی شہادت کو ہر جگہ اور ہر مقام اور ہر موقعہ اور ہر تاویل میں قبول کرلے اور ایک ذرہ ان کے قدم گاہ سے انحراف نہ کرے۔ اگر ایسا ہی ہونا چاہیے تھا تو پھر اس کا نام حکم کیوں رکھا گیا ؟ وہ تو تلميذ المحدثین ہوا اور ان کی رہنمائی کا محتاج ۔ اور جبکہ بہر حال محدثین کی لکیر پر ہی اُس نے چلنا ہے تو یہ ایک بڑا دھوکہ ہے کہ اُس کا نام یہ رکھا گیا کہ قومی تنازع کا فیصلہ کرنے والا ۔ بلکہ اس صورت میں وہ نہ عدل رہا نہ حکم رہا۔ صرف بخاری اور مسلم اور ابن ماجہ اور ابن داؤد وغیرہ کا ایک مقلد ہوا۔ گویا محمد حسین بٹالوی اور نذیر حسین دہلوی اور رشید احمد گنگوہی وغیرہ کا ایک چھوٹا بھائی ہوا۔ بس یہی ایک غلطی ہے جس نے آسمانی دولت سے ان لوگوں کو محروم رکھا ہے۔ کیا یہ اندھیر کی بات نہیں کہ محدثین کی تنقید اور توثیق اور تصیح کو عظمت کی نگاہ سے دیکھا جائے گویا ان کا سب لکھا ہوا نوشتہ تقدیر ہے لیکن وہ جس کا خدا نے فیصلہ کرنے والا نام رکھا اور امت کے اندرونی نزاعوں کے تصفیہ کرنے کے لئے ٹھہرایا وہ ایسا بے دست و پا آیا کہ کسی حدیث کے رد یا قبول کا اس کو اختیار نہیں گویا اس سے وہ لوگ بھی اچھے ٹھہرے جن کی نسبت اہل سنت قبول حمد سہو کا تب ہے۔ لفظ ”ابوداؤد ہونا چاہیے۔(صح)