تحفۂ گولڑویہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 54 of 615

تحفۂ گولڑویہ — Page 54

روحانی خزائن جلد ۱۷ ۵۴ ضمیمہ تحفہ گولر و یہ کے وقت رمضان میں خسوف کسوف عین پیشگوئی کی تاریخوں میں وقوع میں آیا ۔ کیا وہ دن اُن پر مصیبت کا دن نہیں تھا جس میں لیکھرام کی نسبت پیشگوئی پوری ہوئی۔ خدا نے بارش کی طرح نشان برسائے مگر ان لوگوں نے آنکھیں بند کر لیں تا ایسا نہ ہو کہ دیکھیں اور ایمان لائیں ۔ کیا یہ سچ نہیں کہ یہ دعوی غیر وقت پر نہیں بلکہ عین صدی کے سر پر اور عین ضرورت کے دنوں میں ظہور میں آیا اور یہ امر قدیم سے اور جب سے کہ بنی آدم پیدا ہوئے سنت اللہ میں داخل ہے کہ عظیم الشان مصلح صدی کے سر پر اور عین ضرورت کے وقت میں آیا کرتے ہیں جیسا کہ ہمارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی حضرت مسیح علیہ السلام کے بعد ساتویں صدی کے سر پر جبکہ تمام دنیا تاریکی میں پڑی تھی ظہور فرما ہوئے اور جب سات کو دگنا کیا جائے تو چودہ ہوتے ہیں لہذا چودھویں صدی کا سر مسیح موعود کے لئے مقدر تھا تا اس بات کی طرف اشارہ ہو کہ جس قد رقوموں میں فساد اور بگاڑ حضرت مسیح کے زمانہ کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ تک پیدا ہو گیا تھا اس فساد سے وہ فساد دو چند ہے جو مسیح موعود کے زمانہ میں ہوگا۔ اور جیسا کہ ہم ابھی بیان کر چکے ہیں خدا تعالیٰ نے ایک بڑا اصول جو قرآن شریف میں قائم کیا تھا اور اسی کے ساتھ نصاری اور یہودیوں پر حجت قائم کی تھی یہ تھا کہ خدا تعالیٰ اس کا ذب کو جو نبوت یا رسالت اور مامور من اللہ ہونے کا جھوٹا دعویٰ کرے مہلت نہیں دیتا اور ہلاک کرتا ہے۔ پس ہمارے مخالف مولویوں کی یہ کیسی ایمانداری ہے کہ منہ سے تو قرآن شریف پر ایمان لاتے ہیں مگر اس کے پیش کردہ دلائل کو رد کرتے ہیں۔ اگر وہ قرآن شریف پر ایمان لا کر اسی اصول کو میرے صادق یا کا ذب ہونے کا معیار ٹھہراتے تو جلد تر حق کو پالیتے ۔ لیکن میری مخالفت کے لئے اب وہ قرآن شریف کے اس اصول کو بھی نہیں مانتے اور کہتے ہیں کہ اگر کوئی ایسا دعویٰ کرے کہ میں خدا کا نبی یا رسول یا مامور من اللہ ہوں جس سے خدا ہم کلام ہو کر اپنے بندوں کی اصلاح کے لئے وقتا فوقتا راہ راست کی حقیقتیں اس پر ظاہر کرتا ہے۔ اور اس دعوے پر تیئیس یا پچیس برس گذر جائیں یعنی وہ میعاد گذر جائے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی