تحفۂ گولڑویہ — Page 55
روحانی خزائن جلد ۱۷ ضمیمہ تحفہ گولڑو یہ میعاد تھی۔ اور وہ شخص اس مدت تک فوت نہ ہو اور نہ قتل کیا جائے تو اس سے لازم نہیں آتا کہ وہ شخص سچا نبی یا سچا رسول یا خدا کی طرف سے سچا مصلح اور مجدد ہے اور حقیقت میں خدا اس سے ہم کلام ہوتا ہے لیکن ظاہر ہے کہ یہ کلمہ کفر ہے کیونکہ اس سے خدا کے کلام کی تکذیب و تو ہین لازم آتی ہے۔ ہر ایک عقل مند سمجھ سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت حقہ کے ثابت کرنے کے لئے اسی استدلال کو پکڑا ہے کہ اگر یہ شخص خدا تعالیٰ پر افترا کرتا تو میں اس کو ہلاک کر دیتا اور تمام علماء جانتے ہیں کہ خدا کی دلیل پیش کردہ سے استخفاف کرنا بالا تفاق کفر ہے کیونکہ اس دلیل پر ٹھٹھا مارنا جو خدا نے قرآن اور رسول کی حقیت پر پیش کی ہے مستلزم تکذیب کتاب اللہ و رسول اللہ ہے اور وہ صریح کفر ہے مگر ان لوگوں پر کیا افسوس کیا جائے۔ شائد ان لوگوں کے نزدیک خدا تعالیٰ پر افترا کرنا جائز ہے اور ایک بدظن کہہ سکتا ہے کہ شائد یہ تمام اصرار حافظ محمد یوسف صاحب کا اور ان کا ہر مجلس میں بار بار یہ کہنا کہ ایک انسان تئیس برس تک خدا تعالیٰ پر افترا کر کے ہلاک نہیں ہوتا اس کا یہی باعث ہو کہ انہوں نے نعوذ باللہ چند افترا خدا تعالیٰ پر کئے ہوں اور کہا ہو کہ مجھے یہ خواب آئی یا مجھے یہ الہام ہوا اور پھر اب تک ہلاک نہ ہوئے تو دل میں یہ سمجھ لیا کہ خدا تعالیٰ کا اپنے رسول کریم کی نسبت یہ فرمانا کہ اگر وہ ہم پر افترا کرتا تو ہم اس کی رگِ جان کاٹ دیتے یہ بھی صحیح نہیں ہے ۔ اور خیال کیا کہ ہماری رگِ جان خدا نے کیوں نہ کاٹ دی اس کا جواب یہ ہے کہ یہ آیت رسولوں اور نبیوں اور مامورین کی نسبت ہے جو کر وڑ ہا انسانوں کو اپنی طرف دعوت کرتے ہیں اور جن کے افترا اسے دنیا تباہ ہوتی ہے لیکن ایک ایسا شخص جو اپنے تئیں مامور من اللہ ا ہمیں حافظ صاحب کی ذات پر ہرگز یہ امید نہیں کہ نعوذ باللہ بھی انہوں نے خدا پر افترا کیا ہو اور پھر کوئی سزا نہ پانے کی وجہ سے یہ عقیدہ ہو گیا ہو۔ ہمارا ایمان ہے کہ خدا پر افترا کرنا پلید طبع لوگوں کا کام ہے اور آخر وہ ہلاک کئے جاتے ہیں۔ منہ