تریاق القلوب

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 397 of 769

تریاق القلوب — Page 397

روحانی خزائن جلد ۱۵ ۳۹۷ تریاق الفن لیکھرام کے قتل کے وقت زور دیا تھا اور گورنمنٹ میں اس کو پیش کیا تھا اور یہ شور مچایا تھا کہ اگر اس پیشگوئی کرنے والے کی واقعہ قتل لیکھرام میں سازش نہیں ہے تو کیوں اور کن وسائل سے اطلاع پا کر لیکھرام کے مارے جانے سے چار برس پہلے اس شخص نے مشہور کیا کہ وہ عید کے دن مارا جائے گا اور وہ شعر یہ ہے جو کرامات الصادقین کے صفحہ ۵۴ میں درج ہے۔ وبشرني ربّى وقال مُبشِّرا ستعرف يوم العيد و العيد اقرب یعنی میرے خدا نے ایک پیشگوئی کے پورا ہونے کی مجھے خوشخبری دی اور خوشخبری دے کر ہو چکی تھی ۔ لہذا اس ہندو ایڈیٹر نے کسی قدر غلطی کے ساتھ اس شعر کی پیشگوئی کو یاد رکھا اور پھر جب لیکھرام قتل کیا گیا تو گورنمنٹ عادلہ کے اکسانے کے لئے پیش کر دیا۔ اس شعر میں جو لفظ ستعرف یوم العید ہے بعض نادانوں نے اس پر سید اعتراض کیا ہے کہ اس میں پیشگوئی کا تو کچھ ذکر نہیں صرف عید کے دن کا ذکر ہے۔ لیکن سخت افسوس ہے کہ اگر ان کو کچھ بھی عربی کا علم ہوتا تو ایسا نہ کہتے کیونکہ پہلے مصرع میں صاف لکھا ہے کہ وبشرنی رہی۔ اور یہ لفظ ہمیشہ پیشگوئی کے لئے آتا ہے۔ ماسوا اس کے اگر عید کے لفظ سے معمولی عید کا دن ہی مراد ہو تو یہ معنے ہوں گے کہ تجھے عید کے دن کے آنے کی پیش از وقت تیرا رب خوشخبری دیتا ہے اور جب عید آئے گی تو تو اُس کو پہچان لے گا اور عید عید کے ساتھ ملی ہوئی ہوگی۔ اب دیکھو کہ ان معنوں میں کس قدر بیہودہ باتیں اور مفاسد جمع ہیں۔ اول عید کی نسبت جو ایک معمولی دن ہے پیشگوئی کرنا۔ اور پھر اس معمولی عید میں کونسی باریک حقیقت ہے جس کے پہچانے کی ضرورت ہوگی وہ تو پہلے ہی پہچانا ہوا دن ہے۔ اور پھر اس کے کیا معنے کہ عید عید کے ساتھ ملی ہوئی ہوگی۔ ملنے کا لفظ تو متفائر چیزوں کو چاہتا ہے جن کا مقابلہ دکھلانا ضروری ہے۔ اب جبکہ عید ایک ہی چیز ہے تو دوسری چیز کونسی ہوئی جس کے ساتھ مقابلہ ہوا۔ منہ