تریاق القلوب

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 396 of 769

تریاق القلوب — Page 396

روحانی خزائن جلد ۱۵ ۳۹۶ تریاق القلوب اے کہ کوئی گر دعا ہارا اثر بودے کجاست سوئے من بشتاب نمایم ترا چون آفتاب ہاں مکن انکار میں اسرار قدرتہائے حق قصہ کو نہ کن یہ ہیں از ما دعائے مستجا ہے دیکھو صفحه ۲ ۳ ۴ سر ورق رساله برکات الدعا" اب یہ بھی جاننا چاہیے کہ اس پیشگوئی کی وضاحت صرف اس حد تک ہی نہیں کہ اس میں لیکھرام کی موت کی خبر دی گئی اور نیز یہ بھی کہا گیا کہ معمولی بیماریوں کے ذریعہ سے موت نہیں ہوگی بلکہ ہیبت ناک نشان کے ساتھ موت ہوگی اور تیغ بر ان کے ذریعہ سے موت ہوگی بلکہ اس کے ساتھ کی ایک دوسری پیشگوئی میں موت کا دن اور تاریخ بھی بتلائی گئی ہے جیسا کہ میری کتاب کرامات الصادقین کے صفحہ ۴ ۵ میں اسی بارے میں ایک عربی شعر ہے جو قریباً چار سال واقعہ قتل لیکھر ام سے پہلے رسالہ مذکورہ میں چھپ کر تمام قوموں میں شائع ہو چکا ہے۔ یہ وہی شعر ہے جس پر ہندو اخباروں نے اس شعر میں سید احمد خاں صاحب کو مخاطب کر کے کہا گیا ہے کہ آپ جو اس بات سے منکر ہیں جو دعائیں قبول ہوتی ہیں یہ آپ کا خیال سراسر غلط ہے اس پر دلیل یہ ہے کہ میں نے دعا کی ہے کہ لیکھر ام قتل کی موت سے چھ برس کے اندر مارا جائے اور خدا نے مجھے اطلاع دے دی ہے کہ وہ دعا قبول ہوگئی ہے اور نیز یہ کہ سید احمد خاں اخیر نتیجہ تک زندہ رہ کر بچشم خود دیکھ لے گا کہ دعا کے مطابق لیکھرام چھ برس کے اندر قتل کیا گیا۔ چنانچہ سید احمد خاں صاحب فوت نہ ہوئے جب تک کہ چھ مارچ ۱۸۹۷ء آ گیا جس میں شنبہ کے دن لیکھرام مارا گیا۔ منہ پر چہ اخبار سماچار میں جو ایک ہندو پرچہ ہے لکھا ہے کہ ہمارا ماتھا تو اُسی وقت ٹھنکا تھا جب مصنف موعود مسیحی نے اپنی کتاب میں عام اعلان کیا تھا ک لیکھرام عید کو مارا جائے گا۔ دیکھو پر چہ اخبار سما چار صفحہ لیکن یادر ہے کہ اس ایڈیٹر نے اس بیان میں غلطی کھائی ہے کہ ہم نے لیکھرام کے قتل کئے جانے کے لئے عید کا دن پیشگوئی کے رو سے بتلایا تھا بلکہ جیسا کہ اس شعر سے ظاہر ہوتا ہے کہ جو ہم نے متن میں لکھ دیا ہے عید کے بعد کا دن شعر میں بتلایا گیا تھا۔ چونکہ اس شعر کی پیشگوئی کو صد با لوگوں پر زبانی طور پر ظاہر کیا گیا تھا اس لئے ہندوؤں میں بھی اس کی شہرت