تریاق القلوب — Page 395
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۳۹۵ تریاق القلور پھر جب یقینی اور قطعی طور پر یہ امر فیصلہ پا گیا کہ میری دعا کے قبول ہونے پر آسمان پر یہ قرار پا چکا ہے کہ لیکھر ام ایک دردناک عذاب کے ساتھ قتل کیا جائے گا تو میں نے اسی کتاب برکات الدعا کے صفحہ ۲۸ میں سید احمد خاں صاحب کے سی ۔ ایس ۔ آئی کو مخاطب کر کے چند شعروں میں اُن پر ظاہر کیا کہ اگر دعا کے قبول ہونے میں آپ کو شک ہے تو آپ منتظر رہیں کہ جولیکھرام کی نسبت میں نے دعا کی ہے کس طور پر اس کی قبولیت ظاہر ہوتی ہے۔ اور میں نے اس کتاب برکات الدعا کے صفحہ ۲ و ۳ و ۴ کی طرف اُن کو توجہ دلائی۔ اور شعر کے نیچے ان صفحات کے نشان لکھ دیئے ۔ چنانچہ وہ اشعار یہ ہیں:۔ روئے دلبر از طلبگاران نمی دارد حجاب می درخشد در خورو می تابد اندر ماهتاب لیکن آں روئے حسین از غافلاں ماند نہاں عاشقه باید که بردارند از بهرش نقاب دامن پاکش ز نخوتها نمی آید بدست بیچ راہے نیست غیر از بهز و درد و اضطراب بس خطرناک است راه کوچه کار قدیم جان سلامت بایدت از خود رو یها سر بتاب (۱۳) تا کلامش فهم و عقل ناسزایاں کم رسد هر که از خود گم شود او یابد آن راه صواب مشکل قرآن نه از ابناء دنیا حل شود ذوق آن میداند آن مستے کہ نوشد آن شراب اے کہ آگاہی ندادندت از انوار دروں در حق ما ہر چہ گوئی نیستی جائے عتاب از سر وعظ و نصیحت این سخنها گفته ایم تانگرزیں مرہمے بہ گردد آن زخم خراب از دعا کن چاره آزار انکار دعا چوں علاج مے زمے وقت خمار والتہاب بدیں عمر میداشت طبع درشت نہ انساں کہ دست خدایش بکشت غرض فرشتہ جو یکشنبہ کی صبح میں خونی آنکھوں کے ساتھ نظر آیا یہ اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ وہ شنبہ کولیکھر ام کو قتل کر کے یکشنبہ کو اپنی خونی آنکھیں دُنیا کو دکھائے گا یعنی یکشنبہ کی صبح ہوتے ہی عام طور پر شور پڑ جائے گا کہ لیکھرام مقتول ہونے کی حالت میں اس دنیا سے گذر گیا۔ منہ