تریاق القلوب — Page 375
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۳۷۵ تریاق القلوب روم کے روبرو بیان کر چکا تو اُس وقت قیصر نے وہ کلام کہا جو مندرجہ بالا عربی عبارت میں مذکور ہے جس کا ترجمہ یہ ہے کہ اگر یہ باتیں سچ ہیں جو تو کہتا ہے تو وہ نبی جو تم میں پیدا ہوا ہے عنقریب وہ اس جگہ کا مالک ہو جائے گا جس جگہ یہ میرے دونوں قدم ہیں اور قیصر نجوم کے علم میں بہت دسترس رکھتا تھا۔ اس علم کے ذریعے سے بھی اُس کو معلوم ہوا کہ یہ وہی منظفر اور منصور نبی ہے جس کا توریت اور انجیل میں وعدہ دیا گیا ہے۔ اور پھر اُس نے اور کا دیا اور پھر اس نے کہا کہ مجھے تو معلوم تھا کہ وہ نبی عنقریب نکلنے والا ہے مگر مجھے یہ خبر نہیں تھی کہ وہ تم میں سے نکلے گا اور اگر میں جانتا کہ میں اُس تک پہنچ سکتا ہوں تو میں کوشش کرتا کہ اُس کو دیکھوں۔ اور اگر میں اُس کے پاس ہوتا تو اپنے لئے یہ خدمت اختیار کرتا کہ اُس کے پیر دھو یا کروں ۔ فقط یہ وہ جواب ہے جو قیصر نے مخط کے پڑھنے کے بعد دیا یعنی اُس خط کے پڑھنے کے بعد جس میں قیصر کو اُس کی تباہی اور ہلاکت کی شرطی دھمکی دی گئی تھی اور گو قیصر نے اسلم تسلم کی شرط کو جو خط میں تھی پورے طور پر ادا نہ کیا اور عیسائی جماعت سے علیحدہ نہ ہوا لیکن تاہم اُس کی تقریر مذکورہ بالا سے پایا جاتا ہے کہ اُس نے کسی قدر اسلام کی طرف رجوع کیا تھا اور یہی وجہ تھی کہ اُس کو مہلت دی گئی ۔ اور اُس کی سلطنت پر بکلی تباہی نہیں آئی اور نہ وہ جلد تر ہلاک ہوا۔ اب جب ہم ڈپٹی آتھم کے حال کو قیصر روم کے حال کے ساتھ مقابل رکھ کر دیکھتے ہیں تو وہ دونوں حال ایک دوسرے سے ایسے مشابہ پائے جاتے ہیں کہ گویا آنقم قیصر ہے یا قیصر آتھم ہے۔ کیونکہ ان دونوں نے شرطی پیشگوئی پر کسی حد تک عمل کر لیا اس لئے خدا کے رحم نے رفق اور آہستگی کے ساتھ ان سے معاملہ کیا اور اُن دونوں کی عمر کو کسی قدر مہلت دے دی۔ مگر چونکہ وہ دونوں خدا کے نزد یک اخفائے شہادت کے مجرم ٹھہر گئے تھے اور آتھم کی طرح قیصر نے بھی گواہی کو