تریاق القلوب — Page 374
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۳۷۴ تریاق القلوب کی طرف سے ایک مدت تک اُس کو مہلت دی گئی ۔ لیکن چونکہ وہ اُس رجوع پر قائم نہ رہ سکا اور اُس نے شہادت کو چھپایا اس لئے کچھ مہلت کے بعد جو اُس کے رُجوع کی وجہ سے تھی پکڑا گیا ۔ اور اُس کا رجوع اُس کے اس کلمہ سے معلوم ہوتا ہے جو صحیح بخاری کے صفحہ ہم میں اس طرح پر مذکور ہے۔ فان كان ما تقول حقافسیملک موضع قدمی ها تين۔ وقد كنت اعلم انه خارج ولم اكن اظن انه منكم۔ فلوانی اعلم انى أخلص اليه لتجشّمتُ لقاءه۔ ولو كنتُ عنده لغسلتُ عن قدمیہ ۔ اس عبارت کا ترجمہ کرنے سے پہلے یہ بات ہم یاد دلا دیتے ہیں کہ یہ واقعہ اُس وقت کا ہے جبکہ قیصر روم نے ابوسفیان کو جو تجارت کی تقریب سے مع اپنی ایک جماعت کے شام کے ملک میں وارد تھا اپنے پاس بلایا اور اُس وقت قیصر اپنے ملک کا سیر کرتا ہوا بیت المقدس میں یعنی یروشلم میں آیا ہوا تھا اور قیصر نے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت ابوسفیان سے جو اُس وقت کفر کی حالت میں تھا بہت سی باتیں پوچھیں ۔ اور ابوسفیان نے اس وجہ سے جو اُس دربار میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک سفیر بھی موجود تھا جو تبلیغ اسلام کا خط لے کر قیصر روم کی طرف آیا تھا بجز راست گوئی کے چارہ نہ دیکھا کیونکہ قیصر نے اُن اُمور کے استفسار کے وقت کہہ دیا تھا کہ اگر یہ شخص واقعات کے بیان کرنے میں کچھ جھوٹ بولے تو اس کی تکذیب کرنی چاہیئے سوا بو سفیان نے پردہ دری کے خوف سے سچ سچ ہی کہہ دیا اور جس قدر قیصر نے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت کچھ حالات دریافت کئے تھے وہ سچائی کی پابندی سے بیان کر دیئے گو اس کا دل نہیں چاہتا تھا کہ صحیح طور پر بیان کرے مگر سر پر جو مکذبین موجود تھے وہ خوف دامنگیر ہو گیا اور جھوٹ بولنے میں اپنی رسوائی کا اندیشہ ہوا جب وہ سب کچھ قیصر