تریاق القلوب

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 376 of 769

تریاق القلوب — Page 376

روحانی خزائن جلد ۱۵ تریاق القلوب پوشیدہ کیا تھا۔ کیونکہ اُس نے بالآخر اپنے ارکان دولت کو اپنی نسبت بدظن پا کر ان لفظوں سے تسلی دی تھی کہ وہ میری پہلی باتیں جن میں میں نے اسلام کی رغبت ظاہر کی تھی اور تمہیں ترغیب دی تھی وہ باتیں میرے دل سے نہیں تھیں بلکہ میں تمہارا امتحان کرتا تھا کہ تم کس قدر عیسائی مذہب میں مستحکم ہو۔ لیکن لیکھرام کا حال کسری سے یعنی خسرو پرویز سے مشابہ ہے کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مخط پہنچنے پر اُس نے بہت غصہ ظاہر کیا اور حکم دیا کہ اُس شخص کو گر فتار کر کے میرے پاس لانا چاہیئے ۔ جیسے اس نے صوبہ یمن کے گورنر کے نام ایک تاکیدی پروا نہ لکھا کہ وہ شخص جو مدینہ میں پیغمبری کا دعویٰ کرتا ہے جس کا نام محمد ہے (صلی اللہ علیہ وسلم ) اُس کو بلا توقف گرفتار کر کے میرے پاس بھیج دو۔ اُس گورنر نے اس خدمت کے لئے اپنے فوجی افسروں میں سے دو مضبوط آدمی متعین کئے کہ تا وہ کسری کے اس حکم کو بجالا دیں۔ جب وہ مدینہ میں پہنچے اور اُنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ظاہر کیا کہ ہمیں یہ حکم ہے کہ آپ کو گرفتار حملے اس جگہ اس بات کا جتلا دینا فائدہ سے خالی نہ ہوگا کہ خسرو پرویز کے وقت میں اکثر حصہ عرب کا پایہ تخت ایران کے ماتحت تھا اور گو عرب کا ملک ایک ویرانہ سمجھ کر جس سے کچھ خراج حاصل نہیں ہوسکتا تھا چھوڑا گیا تھا مگر اہم بگفتن وہ ملک اسی سلطنت کے ممالک محروسہ میں سے شمار کیا جاتا تھا لیکن سلطنت کی سیاست مدنی کا عرب پر کوئی دباؤ نہ تھا اور نہ وہ اس سلطنت کے سیاسی قانون کی حفاظت کے نیچے زندگی بسر کرتے تھے بلکہ بالکل آزاد تھے اور ایک جمہوری سلطنت کے رنگ میں ایک جماعت دوسروں پر امن اور عدل اپنی قوم میں قائم رکھنے کے لئے حکومت کرتی تھی جن میں سے بعض کی رائے کو سب سے زیادہ نفاذ احکام میں عزت دی جاتی تھی اور اُن کی ایک رائے کسی قدر جماعت کی رائے کے ہم پلہ سمجھی جاتی تھی۔ سو بد قسمتی سے کسری کو اس اشتعال کا یہ بھی باعث ہوا کہ اُس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی رعایا میں سے ایک شخص سمجھا لیکن اس معجزہ کے بعد جس کا ذکر متن میں کیا گیا ہے قطعی طور پر حکومت فارس کے تعلقات ملک عرب سے علیحدہ ہو گئے اُس وقت تک کہ وہ تمام ملک اسلام کے قبضہ میں آگیا۔ منہ ۱۰۵