تریاق القلوب — Page 307
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۳۰۷ تریاق القلوب حذف کر کے چھاپ دیا ہے۔ اس خط میں بزرگ موصوف اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ ان کو اس عاجز کی قبولیت دعا کے بارے میں الہام ہوا تھا اور نیز اس بات کا اقرار بھی کرتے ہیں کہ انہوں نے خار جا بھی آثار خوف دیکھے جن کی وجہ سے زیادہ تر دہشت اُن کے دل پر طاری ہوئی اور قبولیت دعا کے نشان دکھائی دیئے۔ پس اس جگہ یہ بات ظاہر کرنے کے لائق ہے کہ ڈیٹی آتھم کی نسبت جو کچھ شرطی طور پر بیان کیا گیا تھا وہ بیان بالکل اس بیان سے مشابہ ہے جو اس بزرگ کی نسبت کیا گیا۔ یعنی جیسا کہ اس عذابی پیشگوئی میں ایک شرط رکھی گئی تھی ویسا ہی اُس میں بھی ایک شرط تھی اور ان دونوں شخصوں میں فرق یہ ہے کہ یہ بزرگ ایمانی روشنی اپنے اندر رکھتا تھا اور بیچ سے محبت کرنے کی سعادت اس کے جو ہر میں تھی لہذا اس نے آثارِ خوف دیکھ کر اور خدا تعالیٰ سے الہام پا کر اس کو پوشیدہ کرنا نہ چاہا اور نہایت تذلل اور انکسار سے جہاں تک کہ انسان تذلیل کر سکتا ہے تمام حالات صفائی سے لکھ کر اپنا معذرت نامہ بھیج دیا۔ مگر آتھم چونکہ نور ایمان اور جو ہر سعادت سے بے بہرہ تھا اس لئے با وجو د سخت خوفناک اور ہراساں ہونے کے بھی یہ سعادت اس کو میسر نہ آئی اور خوف کا اقرار کر کے پھر افترا کے طور پر اس خوف کی وجہ اُن ہمارے فرضی حملوں کو ٹھہرایا جو صرف اُس کے دل کا منصوبہ تھا۔ حالانکہ اُس نے پندرہ مہینے تک یعنی میعاد کے اندر کبھی ظاہر نہ کیا کہ ہم نے یا ہماری جماعت میں سے کسی نے اس پر حملہ کیا تھا۔ اگر ہماری طرف سے اس کے قتل کرنے کے لئے حملہ ہوتا تو حق یہ تھا کہ میعاد کے اندر اُسی وقت جب حملہ ہوا تھا شور ڈالتا اور حکام کو خبر دیتا۔ اگر ہماری طرف سے ایک بھی حملہ ہوتا تو کیا کوئی قبول کر سکتا ہے کہ اس حملہ کے وقت عیسائیوں میں شور نہ پڑ جاتا۔ پھر جس حالت میں آتھم نے میعاد گذرنے کے بعد یہ بیان کیا کہ میرے قتل کرنے کے لئے مختلف وقتوں اور مقاموں میں تین حملے کئے