تریاق القلوب — Page 308
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۳۰۸ تریاق القلوب گئے تھے۔ یعنی ایک امرتسر میں اور ایک لدھیانہ میں اور ایک فیروز پور میں تو کیا کوئی منصف سمجھ سکتا ہے کہ باوجود ان تینوں حملوں کے جوخون کرنے کے لئے تھے آتھم اور اس کا داماد جوا کسٹرا اسٹنٹ تھا اور اس کی تمام جماعت چپ بیٹھی رہتی اور حملہ کرنے والوں کا کوئی بھی تدارک نہ کرتی اور کم سے کم اتنا بھی نہ کرتی کہ اخباروں میں چھپوا کر ایک شور ڈال دیتی اور اگر نہایت نرمی کرتی تو سرکار سے با ضابطہ میری ضمانت سنگین طلب کرواتی ۔ کیا کوئی دل قبول کر لے گا کہ میری طرف سے تین حملے ہوں اور آئھم اور اس کی جماعت سب کے سب چپ رہیں ۔ بات تک باہر نہ نکلے ؟ کیا کوئی عقلمند اس بات کو قبول کر سکتا ہے۔ خاص کر جس حالت میں میرے ناجائز حملوں کا ثبوت میری پیشگوئیوں کی ساری قلعی کھولتا تھا اور عیسائیوں کو نمایاں فتح حاصل ہوتی تھی۔ پس آتھم نے یہ جھوٹے الزام اسی لئے لگائے کہ پیشگوئی کی میعاد کے اندر اُس کا خائف اور ہراساں ہونا ہر ایک پر کھل گیا تھا۔ وہ مارے خوف کے مرا جا تا تھا۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ آثار خوف اس پر اس طرح ظاہر ہوئے ہوں جیسا کہ یونس کی قوم پر ظاہر ہوئے تھے ۔ غرض اُس نے الہامی شرط سے فائدہ اُٹھایا مگر دنیا سے محبت کر کے گواہی کو پوشیدہ رکھا اور قسم نہ کھائی اور نالش نہ کرنے سے ظاہر بھی کر دیا کہ وہ ضرور خدا تعالی کے خوف اور اسلامی عظمت سے ڈرتا رہا۔ لہذا وہ اخفائے شہادت کے بعد دوسرے الہام کے موافق جلد تر فوت ہو گیا۔ بہر حال یہ مقدمہ کہ جو اس خوش قسمت اور نیک فطرت بزرگ کا مقدمہ ہے آتھم کے مقدمہ سے بالکل ہم شکل ہے اور اس پر روشنی ڈالتا ہے ۔ خدا تعالی اس بزرگ کی خطا کو معاف کرے اور اس سے راضی ہو ۔ میں اُس سے راضی ہوں اور اس کو معافی دیتا ہوں ۔ چاہیے کہ ہماری جماعت کا ہر ایک شخص اُس کے حق میں دعائے خیر کرے اور اس کو بھی چاہیے کہ آئندہ خدا تعالیٰ سے ڈرتا رہے۔ 6496