تریاق القلوب — Page 248
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۲۴۸ تریاق القلوب ہاتھ میں ہے باوا صاحب کی وفات سے بہت مدت بعد ا کٹھا کیا گیا ہے اور روایتوں کا کوئی صحیح سلسلہ سکھوں کے ہاتھ میں نہیں ہے۔ معلوم نہیں کہ کہاں کہاں سے اور کس کس سے یہ شعر لئے گئے اور کیا کچھ کم کیا گیا یا بڑھایا گیا۔ میں نے گرنتھ کے وہ شعر غور سے دیکھے ہیں جو باوا نا تک صاحب کی طرف منسوب کئے جاتے ہیں اور میں ایک مدت تک گرنتھ کو سنتا رہا اور خود بھی پڑھتا رہا اور اس میں غور کرتا رہا۔ میں اپنے پختہ تجربہ کی بنا پر ناظرین کو یقین دلاتا ہوں کہ جس قدر ان میں سے عمدہ شعر معارف اور حقائق سے پر ہیں وہ سراسر قرآن شریف کا ترجمہ ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ باوا صاحب جو ایک مدت تک اہل اسلام اور اولیاء اسلام کی خدمت میں رہے اُن کے منہ سے یہ حقائق قرآنی سنتے رہے اور آخر انہی حقائق کو اپنی بھاشا زبان میں ترجمہ کر کے نظم میں قوم کی بھلائی کے لئے مشہور کر دیا۔ غرض با واصاحب کا اسلام ایک ایسے چمکدار ستارہ کی طرح ہے جو کسی طرح وہ چھپ ہی نہیں سکتا ۔ باوا صاحب کی یہ کارروائی نہایت قابل قدر ہے جو انہوں نے اپنی جماعت کو ہندوؤں اور اُن کے ویدوں سے علیحدہ کر دیا جیسا کہ ابھی ۱۸۹۸ ء یا ۱۸۹۹ء میں بعض گرنتھ کے فاضل سکھوں نے اخبار عام میں یہ شائع کر دیا ہے کہ ہمیں ہندوؤں سے کچھ تعلق نہیں ۔ غرض یہ اتمام حجت ہے جو میں نے اپنی کتابوں میں خالصہ قوم پر کیا ہے۔ اب اگر وہ چاہیں تو قبول کریں اور باوا صاحب کی اصل منشاء پر چل کر اپنی عاقبت درست کر لیں کہ دنیا میں ہمیشہ رہنا نہیں ۔ اور ایک مشترک کارروائی جس سے تمام مخالف مذہبوں پر حجت پوری ہوگئی ہے میری طرف سے یہ ہے کہ میں نے عام اعلان دیا ہے کہ آسمانی نشان اور برکات اور پر میشر کے شکتی کے کام صرف اسلام میں ہی پائے جاتے ہیں اور دنیا میں کوئی ایسا مذ ہب نہیں کہ ان نشانوں میں اسلام کا مقابلہ کر سکے ۔ اس بات