تریاق القلوب — Page 247
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۲۴۷ تریاق القلوب پر بھی حجت کو پورا کر دیا گیا۔ میں نے اپنی کتاب ست بچن میں ثابت کر دیا ہے کہ با با نا تک صاحب دراصل مسلمان تھے اور اُن لوگوں میں سے تھے جن کا دل غیر کی محبت اور اُنس سے پاک کیا جاتا ہے اور ان کا چولہ جس کو وہ پہنتے تھے اب تک ڈیرہ نا نک میں موجود ہے جس پر قرآن شریف کی آیتیں لکھی ہوئی ہیں اور موٹی قلم سے عربی زبان میں یہ لکھا ہوا ہے کہ بجز اسلام کے اور تمام دین باطل ہیں جو خدا تک نہیں پہنچا سکتے ۔ اب اس سے زیادہ با وا صاحب موصوف کے اسلام پر اور کیا گواہی ہوگی کہ وہ خود اپنے چولے کی تحریر میں اس بات کا اقرار ظاہر کرتے ہیں کہ زمین پر صرف اسلام ہی وہ مذہب ہے جو سچا اور خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ اور میں نے ست بچن میں یہ بھی ثابت کیا ہے کہ باوانا تک صاحب مسلمانوں کی طرح نماز بھی پڑھا کرتے تھے اور ایک یا دو حج بھی کئے تھے اور حیات خاں نامی ایک افغان کی لڑکی سے نکاح بھی کیا تھا اور ملتان میں ایک بزرگ کی قبر کی ہمسائیگی میں برابر چالیس دن تک چلہ میں بھی بیٹھے تھے اور کئی اور اہل اللہ کی قبروں پر بھی چلہ کشی کی۔ اور یہ دلائل ان کے اسلام پر ایسے مضبوط ہیں جو ان سے بڑھ کر اور کسی دلیل کی ضرورت نہیں۔ اور گرنتھ کے وہ اشعار جوان کی طرف منسوب کئے گئے ہیں قرآن شریف کی تعلیم سے سراسر موافق ہیں بلکہ وہ اپنے بعض اشعار میں عام لوگوں کو نماز کی ترغیب دیتے ہیں۔ اور اگر فرض کر لیں کہ گرنتھ میں اسلام کی نسبت بعض بے ادبی کے الفاظ ہیں تو بلا شبہ با وا صاحب کا اُن نا پاک شعروں سے دامن مبرا ہے بلکہ بلاشبہ یہ اُس زمانہ کے شعر ہوں گے جبکہ سکھوں میں اسلام کی نسبت بہت کچھ کینہ اور تعصب پیدا ہو گیا تھا کیونکہ گرنتھ کے شعر تمام با واصاحب کا ہی کلام نہیں ہے بلکہ اس میں بہت کچھ ذخیرہ دوسرے لوگوں کے شعروں کا ہے جن سے ہمیں کچھ تعلق نہیں ۔ علاوہ اس کے یہ گرنتھ جو خالصہ صاحبوں کے