تریاق القلوب

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 242 of 769

تریاق القلوب — Page 242

روحانی خزائن جلد ۱۵ ۲۴۲ تریاق القلوب سوز و گداز اپنی دعا کا پھل دیکھنے سے نامراد رہا۔ یہ بات عارفوں اور ایمانداروں کے نزدیک ایسی جھوٹ ہے جیسا کہ دن کو کہا جائے کہ رات ہے یا اُجالے کو کہا جائے کہ اندھیرا ہے یا چشمہ شیریں کو کہا جائے کہ تلخ اور شور ہے۔ جس دعا میں رات کے چار پہر برابرسوز وگداز اور گریہ وزاری اور سجدات اور جانکاہی میں گذریں کبھی ممکن نہیں کہ خدائے کریم ورحیم ایسی دعا کونا منظور کرے۔ خاص کر وہ دعا جو ایک مقبول کے منہ سے نکلی ہو ۔ پس اس تحقیق سے ظاہر ہے کہ حضرت مسیح کی دعا قبول ہو گئی تھی اور اسی وجہ سے خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح کی نجات کے لئے ایسے اسباب پیدا کر دئیے تھے جو اُس کی رہائی کے لئے قطعی اسباب تھے۔ از انجملہ ایک یہ کہ پیلاطوس کی بیوی کو فرشتہ نے خواب میں کہا کہ اگر یسوع سولی پر مر گیا تو اس میں تمہاری تباہی ہے اور اس بات کی خدا تعالیٰ کی کتابوں میں کوئی نظیر نہیں ملتی کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے کسی کو خواب میں فرشتہ کہے کہ اگر ایسا کام نہیں کرو گے تو تم تباہ ہو جاؤ گے اور پھر فرشتہ کے کہنے کا ان کے دلوں پر کچھ بھی اثر نہ ہو اور وہ کہنا رائیگاں جائے ۔ اور اسی طرح یہ بات بھی سراسر فضول اور جھوٹ معلوم ہوتی ہے کہ خدا تعالیٰ کا تو یہ پختہ ارادہ ہو کہ وہ یسوع مسیح کو سولی دے اور اس طرح پر لوگوں کو عذاب ابدی سے بچاوے اور فرشتہ خواہ نخواہ یسوع مسیح کے بچانے کے لئے ترا پتا پھرے۔ کبھی پیلاطوس کے دل میں ڈالے کہ مسیح بے گناہ ہے اور کبھی پہلا طوس کے سپاہیوں کو اس پر مہربان کرے اور ترغیب دے کہ وہ اس کی ہڈی نہ توڑیں اور کبھی پیلاطوس کی بیوی کے خواب میں آوے اور اس کو یہ کہے کہ اگر یسوع مسیح سولی پر مر گیا تو پھر اس میں تمہاری تباہی ہے۔ یہ عجیب بات ہے کہ خدا اور فرشتہ کا باہم اختلاف رائے ہو اور پھر رہائی کے اسباب میں سے جو ان چار انجیلوں میں مرقوم ہیں ایک یہ بھی سبب ہے کہ یہودیوں کو یہ موقع