تریاق القلوب

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 241 of 769

تریاق القلوب — Page 241

روحانی خزائن جلد ۱۵ ۲۴۱ تریاق القلوب نظیر نہیں ملی ۔ اور خدا تعالیٰ کی تمام کتابوں میں بالا تفاق یہ گواہی پائی جاتی ہے کہ راستبازوں کی دعا قبول ہوتی ہے اور اُن کے کھٹکھٹانے پر ضرور کھولا جاتا ہے۔ پھر مسیح کی دعا کو کیا روک پیش آئی کہ باوجود ساری رات کی گریہ وزاری اور شور و غوغا کے رومی کی طرح پھینک دی گئی اور قبول نہ ہوئی۔ کیا خدا تعالیٰ کی کتابوں میں اس واقعہ کی کوئی اور نظیر بھی ہے کہ کوئی میچ جیسا راستباز یا اس سے کمتر تمام رات رو رو کر اور جگر پھاڑ کر دعا کرے اور بیقراری سے بے ہوش ہوتا جائے اور خود اقرار کرے کہ میری جان گھٹ رہی ہے اور میرا دل گرا جاتا ہے اور پھر ایسی دردناک دعا قبول نہ ہو؟ ہم دیکھتے ہیں کہ اگر خدا تعالیٰ ہماری کوئی دعا قبول کرنا نہیں چاہتا تو جلد ہمیں اطلاع بخشتا ہے اور اُس درد ناک حالت تک ہمیں نہیں پہنچاتا جس میں اس کا قانونِ قدرت یہی واقع ہے کہ اس درجہ پر وفادار بندوں کی دعا پہنچ کر ضرور قبول ہو جایا کرتی ہے۔ پھر مسیح کی دعا کو کیا بلا پیش آئی کہ نہ تو وہ قبول ہوئی اور نہ انہیں پہلے ہی سے اطلاع دی گئی کہ یہ دعا قبول نہیں ہوگی اور نتیجہ یہ ہوا کہ بقول عیسائیوں کے خدا کی اس خاموشی سے صحیح سخت حیرت میں پڑا یہاں تک کہ جب صلیب پر چڑھایا گیا تو بے اختیار عالم نومیدی میں بول اُٹھا کہ ایلی ایلی لما سبقتانی یعنی اے میرے خدا اے میرے خدا تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا۔ غرض میں نے اپنی کتابوں سے حق کے طالبوں کو اس بات کی طرف توجہ دلائی ہے کہ وہ پہلے اس بات کو ذہن میں رکھ کر کہ مقبولوں کی اوّل علامت مستجاب الدعوات ہونا ہے خاص کر اس حالت میں جب کہ اُن کا درد دل نہایت تک پہنچ جائے پھر اس بات کو سوچیں کہ کیونکر ممکن ہے کہ باوجودیکہ حضرت مسیح علیہ السلام نے مارے غم کے بے جان اور نا تواں ہوکر ایک باغ میں جو پھل لانے کی جگہ ہے بکمال در دساری رات دعا کی اور کہا کہ اے میرے باپ اگر ممکن ہو تو یہ پیالہ مجھ سے ٹال دیا جائے مگر پھر بھی با ایں ہمہ