تریاق القلوب — Page 243
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۲۴۳ تریاق القلوب نہ ملا کہ وہ قدیم دستور کے موافق پانچ چھ روز تک حضرت مسیح کو صلیب پر لٹکا رکھتے تا بھوک اور پیاس اور دُھوپ کے اثر سے مر جاتا اور نہ دستور قدیم کے موافق اُن کی ہڈیاں توڑی گئیں جیسا کہ چوروں کی توڑی گئیں ۔ اگر چہ یہ رعایت مخفی طور پر پیلاطوس کی طرف سے تھی کیونکہ دعبناک خواب نے اس کی بیوی کا دل ہلا دیا تھا لیکن آسمان سے بھی یہی ارادہ زور مار رہا تھا ورنہ کیا ضرورت تھی کہ مین صلیب دینے کے وقت سخت آندھی آتی اور زمین پر سخت تاریکی چھا جاتی اور ڈرانے والا زلزلہ آتا۔ اصل بات یہ تھی کہ خدا تعالیٰ کو منظور تھا کہ یہودیوں کے دل ڈر جائیں اور نیز ان پر وقت مشتبہ ہو کر سبت کے توڑنے کا فکر بھی ان کو دامنگیر ہو جائے کیونکہ جس وقت حضرت مسیح علیہ السلام صلیب (۵۲) پر چڑھائے گئے وہ جمعہ کا دن تھا اور قریباً دو پہر کے بعد تین بجے تھے۔ اور یہودیوں کو سخت ممانعت تھی کہ کوئی مصلوب سبت کے دن یا سبت کی رات جو جمعہ کے بعد آتی ہے صلیب پر لڑکا نہ رہے اور یہودی قمری حساب کے پابند تھے اس لئے وہ سبت کی رات اُس رات کو سمجھتے تھے کہ جب جمعہ کے دن کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔ پس آندھی اور سخت تاریکی کے پیدا ہونے سے یہودیوں کے دلوں میں یہ کھٹکا شروع ہوا کہ ایسا نہ ہو کہ وہ لاشوں کو سبت کی رات میں صلیب پر رکھ کر سبت کے مجرم ہوں اور مستحق سزا ٹھہریں اور دوسرے دن عید فسح بھی تھی جس میں خاص طور پر صلیب دینے کی ممانعت تھی ۔ پس جبکہ آسمان سے یہ اسباب پیدا ہو گئے اور نیز یہودیوں کے دلوں پر الہی رعب بھی غالب آگیا تو اُن کے دلوں میں یہ دھڑ کہ شروع ہو گیا کہ ایسا نہ ہو کہ اس تاریکی میں سبت کی رات آجائے لہذا صحیح اور چوروں کو جلد صلیب پر سے اُتار لیا گیا اور سپاہیوں نے یہ چالا کی کی کہ پہلے چوروں کی ٹانگوں کو توڑنا شروع کر دیا اور ایک نے اُن میں سے یہ مکر کیا کہ مسیح کی نبض دیکھ کر کہہ دیا کہ یہ تو مر چکا ہے اب اس کی ٹانگیں توڑنے کی