تریاق القلوب

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 170 of 769

تریاق القلوب — Page 170

روحانی خزائن جلد ۱۵ ۱۷۰ تریاق القلوب ہو گیا تھا؟ کیا وہ جو درحقیقت خدا سے ہے اس کو کہہ سکتے ہیں کہ وہ در حقیقت شیطان سے ہے؟ ماسوا اس کے جبکہ یہ حقیقت بھی کھل گئی کہ حضرت مسیح ہرگز مصلوب نہیں ہوئے اور کشمیر میں اُن کی قبر ہے تو اب راستی کے بھوکے اور پیاسے کیونکر عیسائی مذہب پر قائم رہ سکتے ہیں۔ یہ سامان کسر صلیب کا ہے جو خدا نے آسمان سے پیدا کیا ہے نہ یہ کہ مار مار کر لوگوں کو مسلمان بناویں۔ ہماری قوم کے علماء اسلام کو ذرہ ٹھہر کر سوچنا چاہیے کہ کیا جبر سے کوئی مسلمان ہو سکتا ہے اور کیا جبر سے کوئی دین دل میں داخل ہو سکتا ہے۔ اور جولوگ مسلمانوں میں سے فقراء کہلاتے ہیں اور مشائخ اور صوفی بنے بیٹھے ہیں اگر وہ اب بھی اس باطل عقیدہ سے باز نہ آویں اور ہمارے دعوئی میسحیت کے مصدق نہ ہو جائیں تو طریق سہل یہ ہے کہ ایک مجمع مقرر کر کے کوئی ایسا شخص جو میرے دعوی مسیحیت کو نہیں مانتا اور اپنے تئیں ملہم اور صاحب الہام جانتا ہے مجھے مقام بٹالہ یا امرتسر یا لاہور میں طلب کرے اور ہم دونوں جناب الہی میں دعا کریں کہ جو شخص ہم دونوں میں سے جناب الہی میں سچا ہے ایک سال میں کوئی عظیم الشان نشان جو انسانی طاقتوں سے بالاتر اور معمولی انسانوں کی دسترس سے بلند تر ہو اس سے ظہور میں آوے ایسا نشان کہ جو اپنی شوکت اور ۲۳ طاقت اور چمک میں عام انسانوں اور مختلف طبائع پر اثر ڈالنے والا ہو خواہ وہ پیشگوئی ہو ۔ یا اور کسی قسم کا اعجاز ہو جو انبیاء کے معجزات سے مشابہ ہو۔ پھر اس دعا کے بعد ایسا شخص جس کی کوئی خارق عادت پیشگوئی یا اور کوئی عظیم الشان نشان ایک برس کے اندر ظہور میں آجائے اور اس عظمت کے ساتھ ظہور میں آئے جو اس مرتبہ کا نشان حریف مقابل سے ظہور میں نہ آسکے تو وہ شخص سچا سمجھا جائے گا جس سے ایسا نشان ظہور میں آیا۔ اور پھر اسلام میں سے تفرقہ دور کرنے کے لئے شخص مغلوب پر لازم ہوگا کہ اس شخص کی مخالفت چھوڑ دے اور بلا توقف اور بلا تامل اُس کی بیعت کرلے اور اُس خدا سے جس کا غضب کھا جانے والی آگ ہے ڈرے۔ اکثر جاہلوں کو یہ معلوم نہیں ہے کہ الہام شیطانی بھی ہوا کرتے ہیں۔ اُمت کے تمام اکابر اس عقیدہ پر متفق ہیں پس ہر ایک شخص کا الہام جونرے الفاظ ہوں اور کوئی فوق العادت امر