تریاق القلوب — Page 169
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۱۶۹ تریاق القلوب دوسرے پہلو میں اُن کے مذہب اور اُن کے اصولوں کا واقعات حقہ سے تمام تانا بانا توڑ دیا جائے اور ثابت کر دیا جائے کہ حضرت مسیح کا مصلوب ہونا اور پھر آسمان پر چڑھ جانا دونوں باتیں جھوٹ ہیں۔ یہ طرز ثبوت ایسی ہے کہ بلا شبہ اس قوم میں ایک زلزلہ پیدا کر دے گی کیونکہ عیسائی مذہب کا تمام مدار کفارہ پر ہے اور کفارہ کا تمام مدارصلیب پر اور جب صلیب ہی نہ رہی تو کفارہ بھی نہ رہا۔ اور جب کفارہ نہ رہا تو مذہب بنیاد سے گر گیا۔ ہم اپنے بعض رسالوں میں یہ بھی لکھ چکے ہیں کہ صلیب کا عقیدہ خود ایسا ہے جس سے حضرت مسیح کسی طرح بچے نبی نہیں ٹھہر سکتے کیونکہ جبکہ توریت کی رو سے مصلوب ملعون ہوتا ہے اور لعنت کا مفہوم لغت کے رو سے یہ ہے کہ کسی شخص کا دل خدا تعالیٰ سے بکلی برگشتہ ہو جائے اور خدا سے بیزار ہو جائے اور خدا اُس سے بیزار ہو جائے اور وہ خدا کا دشمن ہو جائے اور خدا اُس کا دشمن ہو جائے۔ اسی لئے لعین شیطان کا نام ہے۔ سو ملعون ہو جانا اور لعنتی بن جانا جس کا مفہوم اس قدر ہد ہے۔ یہ سخت تاریکی کیونکر میچ جیسے راستباز کے دل پر وارد ہو سکتی ہے؟ معلوم ہوتا ہے کہ عیسائیوں نے کفارہ کا منصوبہ بنانے کے وقت لعنت کے مفہوم پر ذرہ غور نہیں کی اور بھول گئے ورنہ ممکن نہ تھا کہ وہ لقب جو شیطان پلید کو دیا گیا ہے وہی نعوذ باللہ حضرت مسیح کو دیتے ۔ نہایت ضروری ہے کہ اب بھی عیسائی صاحبان عربی اور عبرانی کی کتابوں کو غور سے دیکھ کر لعنت کے مفہوم کو سمجھ لیں کہ یہ کیا چیز ہے۔ انہیں کتابوں کے دیکھنے سے معلوم ہوگا کہ یہ لفظ صرف اس شخص پر اطلاق پاتا ہے جس کا دل سیاہ اور ناپاک اور خدا سے دور اور شیطان کی طرح ہو گیا ہو اور تمام تعلقات خدا تعالیٰ سے ٹوٹ گئے ہوں ۔ میں نہیں سمجھ سکتا کہ کون ایماندار یہ نا پاک لقب اس راستباز کی نسبت روا رکھ سکتا ہے جس کا نام انجیل میں نو رلکھا ہے۔ کیا وہ نور کسی زمانہ میں تاریکی عیسائی مذہب پر فتح پانے کا بجز حضرت مسیح کی طبعی موت ثابت کرنے اور صلیبی موت کے خیال کے جھوٹا ثابت کرنے کے اور کوئی طریق نہیں سو یہ خدا نے بات پیدا کر دی ہے نہ ہم نے کہ کمال صفائی سے ثابت ہو گیا کہ حضرت مسیح صلیب سے جان بچا کر کشمیر میں آگئے تھے اور وہیں فوت ہوئے ۔ یہ وہ اعلیٰ درجہ کا ثبوت ہے جیسا کہ آفتاب کا آسمان پر چمکنا۔ منه