تریاق القلوب

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 148 of 769

تریاق القلوب — Page 148

روحانی خزائن جلد ۱۵ ۱۴۸ تریاق القلوب بلکہ بعض ایسی پیشگوئیوں پر بھی جو مشروط تھیں اور بلحاظ اپنے شرائط کے پوری ہو گئی تھیں اور الہامی شرطوں نے تقاضا کیا تھا کہ ان کی پابندی کرنے والوں کو پابندی کا فائدہ ملے ۔ کمال نا انصافی سے یہ اعتراض کیا کہ وہ جھوٹی نکلیں اور پوری نہیں ہوئیں ۔ جیسا کہ ڈپٹی عبد اللہ آتھم کی موت کی نسبت جو پیشگوئی کی گئی تھی جس میں یہ شرط تھی کہ اگر آتھم صاحب پندرہ مہینے کی میعاد میں حق کی طرف رجوع کر لیں گے تو موت سے بچ جائیں گے۔ نافہم مخالفوں نے یہ شور مچا دیا کہ آتھم پندرہ مہینے کے اندرفوت نہیں ہوا بلکہ بعد میں فوت ہوا۔ اور اگر یہ لوگ ایک ساعت تعصب سے الگ ہو کر پیشگوئی کے مضمون پر غور کرتے اور شرط کے لفظوں کو تدبر سے دیکھتے اور پھر آتھم صاحب کے اُن حالات پر نظر ڈالتے جو پیشگوئی کی میعاد پندرہ مہینے میں انہوں نے ظاہر کئے تو بلا شبہ انسانی حیا ان کو اس بات سے مانع آتا کہ وہ ایسی روشن پیشگوئی کو جو کھلے کھلے طور پر پوری ہوگئی غلط قرار دیتے ۔ مگر اس اندھی دنیا میں تعصب بھی ایک سخت پر آشوب غبار ہے جس سے انسان دیکھتا ہوا نہیں دیکھتا۔ اور سنتا ہوا نہیں سنتا۔ اور سمجھتا ہوا نہیں سمجھتا۔ کیا یہ سچ نہیں ہے کہ آتھم نے پندرہ مہینے میعاد پیشگوئی میں مذہبی مباحثات سے بکلی منہ بند رکھا اور اُس اپنی قدیم عادت سے رجوع کیا جس کو وہ ہمیشہ تالیف اور تحریر کے رو سے ظاہر کرتا تھا۔ کیا اس رجوع کا بجز اس کے کوئی اور سبب تھا کہ وہ اس بات سے ڈرا کہ ایسا نہ ہو کہ متعصبانہ بحثوں اور تحریری اور تقریری گستاخیوں سے جلد تر اس پر کوئی وبال آوے ۔ پس غضب الہی کے خوف سے اپنی قدیم عادت سے رجوع کرنا پڑا ۔ کیا یہ رجوع نہ تھا ؟ کیا یہ عیسائیت پر استقامت کی دلیل ہے کہ ایسا شخص جو کبھی تو ہین اسلام اور بحث مباحثہ سے باز نہیں آتا تھا وہ پندرہ مہینے یعنی میعاد پیشگوئی کے ایام تک اپنا منہ بند ر کھے اور حواس باختہ ہوکر سودائیوں کی طرح زندگی گذرانے؟ پس جبکہ آتھم نے پیشگوئی سے ڈر کر اپنی پہلی طرز زندگی کو چھوڑ دیا اور خوف کے آثار ظاہر کئے اور بے ادبی اور رہِ اسلام سے باز آ گیا تو کیا اس حالت کو رجوع نہیں کہیں گے؟