تریاق القلوب

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 147 of 769

تریاق القلوب — Page 147

روحانی خزائن جلد ۱۵ ۱۴۷ تریاق القلوب وہ چوتھا لڑکا پیدا نہ ہو۔ ہر ایک دانشمند سمجھ سکتا ہے کہ یہ باتیں انسان کی طاقت سے بالاتر ہیں ۔ اور اگر یہ پیشگوئیاں صرف زبانی ہوتیں اور شائع نہ کی جائیں تو منکرین کے لئے انکار کی گنجائش رہ جاتی مگر حق کے طالبوں کی یہ خوش قسمتی ہے کہ یہ تمام پیشگوئیاں بہت مدت پیش از وقت شائع کی گئی ہیں۔ چودہ سال پہلے بیان کرنا اور لاکھوں انسانوں میں تحریری اشتہارات کو مشتہر کر دینا کیا یہ انسان کا کام ہو سکتا ہے؟ دنیا میں کون ہے جو کسی قیافہ یا انکل سے پیشگوئی کر سکے؟ کہ ضرور ہے کہ فلاں میری بیوی سے میرے گھر میں چارلڑ کے پیدا ہوں۔ اور ضرور ہے کہ چوتھے لڑکے کا دوشنبہ سے کچھ تعلق ہو۔ اور ضرور ہے کہ فلاں شخص اس وقت تک فوت نہ ہو جب تک چوتھا لڑ کا پیدا ہو جائے۔ اب ذرہ سوچو کہ یہ کسی عظمت اور شان کی پیشگوئی اس شخص کی ہے جس نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا۔ اور پھر ایسی پیشگوئیاں اپنی سچائی کی معیار قرار دیں۔ اور یہ بھی اشتہارات میں مخالفوں کو مخاطب کر کے لکھ دیا کہ اگر تم خدا دوست ہوا اور خدا تعالی تمہارے ساتھ ہے تو دعا کرو کہ یہ پیشگوئیاں پوری نہ ہوں اور پھر وہ پیشگوئیاں پوری ہو گئیں اور مخالفوں نے جو الہامی بھی کہلاتے تھے بہت سی دعائیں بھی کیں کہ وہ پیشگوئیاں ٹل جائیں لیکن خدا نے ان کی دعا نہ سنی اور سب کے سب نامراد رہے۔ کیا ایسا مدعی جھوٹا ہو سکتا ہے؟ جن تحریروں اور محکم شہادتوں کے ساتھ یہ نشان ظاہر ہو گئے ۔ دنیا میں تلاش کرو کہ بجز ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس اعلیٰ درجہ کے ثبوت کی نظیر کہاں ہے؟ مگر اس جگہ یہ بھی یاد رکھنے کے لائق ہے کہ چونکہ متعصب انسان کی یہ عادت ہے کہ جبکہ اس پر ہر ایک طرح سے حجت پوری ہو جاتی ہے اور خوب مضبوط طور پر الزام کے شکنجے کے نیچے آجاتا ہے۔ تو پھر وہ دیدہ دانستہ حیا اور شرم سے بھی لا پروا ہو کر دن کو رات کہنا شروع کر دیتا ہے۔ اور باوجود یکہ کوئی بھی انکار کی گنجائش نہ ہو تب بھی بیہودہ نکتہ چینیوں کی بنا پر انکار کئے جاتا ہے ۔ پس یہی وجہ ہے کہ ہمارے مخالفوں نے خدا تعالیٰ کے صد با نشانوں کو دیکھ کر پھر بھی اُن سے کچھ بھی فائدہ نہیں اُٹھایا