توضیح مرام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 55 of 748

توضیح مرام — Page 55

روحانی خزائن جلد ۳ ۵۵ توضیح مرام کیونکہ برطبق آیت قِيلَ ادْخُلِ الْجَنَّةَ وَادْخُلِي جَنَّتِي وه بلا توقف وہ بلا توقف بہشت میں داخل کئے جاتے ہیں ۔ اب مسلمانوں میں اور عیسائیوں دونوں گروہ پر واجب ہے کہ اس امر کو غور سے جانچیں کہ کیا یہ ممکن ہے کہ ایک مسیح جیسا مقرب بندہ بہشت میں داخل کر کے پھر اس سے باہر نکال دیا جائے؟ کیا اس میں خدائے تعالیٰ کے اس وعدہ کا تخلف نہیں جو اس کی تمام پاک کتابوں میں بتواتر و تصریح موجود ہے؟ کہ بہشت میں داخل ہونے والے پھر اس سے نکالے نہیں جائیں گے۔ کیا ایسے بزرگ اور حتمی وعدہ کا ٹوٹ جانا خدائے تعالیٰ کے تمام وعدوں پر ایک سخت زلزلہ نہیں لاتا ؟ پس یقیناً سمجھو کہ ایسا اعتقاد رکھنے میں نہ صرف مسیح پر نا جائز 9 مصیبت وارد کرو گے بلکہ ان لغو باتوں سے خدائے تعالیٰ کی کسر شان اور کمال درجہ کی بے ادبی بھی ہو گی اس امر کو ایک بڑے غور اور دیدہ تعمق سے دیکھنا چاہیے کہ ایک ادنی اعتقاد سے جس سے نجات پانے کے لئے استعارہ کی راہ موجود ہے بڑی بڑی دینی صداقتیں آپ کے ہاتھ سے فوت ہوتی ہیں اور در حقیقت یہ ایک ایسا فاسد اعتقاد ہے جس میں ہزاروں خرابیاں سخت اُلجھن کے ساتھ گرہ در گرہ لگی ہوئی ہیں اور مخالفوں کو ہنسی اور ٹھٹھے کے لئے موقعہ ہاتھ آتا ہے۔ میں نے پہلے بھی ذکر کیا ہے کہ یہی معجزہ کفار مکہ نے ہمارے سید و مولی حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے مانگا تھا کہ آسمان پر ہمارے رو برو چڑھیں اور روبروہی اتریں اور انہیں جواب ملا تھا کہ قُلْ سُبْحَانَ رَبِّی کے یعنی خدائے تعالیٰ کی حکیمانہ شان اس سے پاک ہے کہ ایسے کھلے کھلے خوارق اس دارالا بتلا میں دکھاوے اور ایمان بالغیب کی حکمت کو تلف کرے۔ اب میں کہتا ہوں کہ جو امر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے جو افضل الانبیاء 10 تھے جائز نہیں اور سنت اللہ سے باہر سمجھا گیا وہ حضرت مسیح کے لئے کیوں کر جائز ہو سکتا ہے؟ یہ کمال بے ادبی ہو گی کہ ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت ایک کمال کو مستبعد خیال کریں اور پھر وہی کمال حضرت مسیح کی نسبت قرین قیاس مان لیں ۔ کیا کسی سچے مسلمان سے ايس : ۲۷ ۲ الفجر : ۳۱ ۳ بنی اسرئیل : ۹۴