توضیح مرام — Page 54
روحانی خزائن جلد۳ ۵۴ توضیح مرام ایک ہی صورت کے دو امر دو متناقض معنوں پر محمول ہو سکیں یہ بات اہل الرائے کے غور کے قابل ہے کہ اگر حضرت مسیح کی وہ تاویل جو انہوں نے یوحنا کے آسمان سے اترنے کی نسبت کی ہے فی الواقع صحیح ہے تو کیا حضرت مسیح کے نزول کے مقدمہ میں جو اسی پہلے مقدمہ کا ہم شکل ہے اسی تاویل کو کام میں نہیں لانا چاہیے ۔ جس حالت میں ایک نبی اس سر بستہ راز کی اصل حقیقت کھول چکا ہے اور قانون قدرت بھی اُسی کو چاہتا اور اُسی کو مانتا ہے تو پھر اس صاف اور سیدھی راہ کو چھوڑ کر ایک پیچیدہ اور قابل اعتراض راہ اپنی طرف سے کھودنا کیوں کر قبول کرنے کے لائق ٹھہر سکتا ہے۔ کیا وی علم اور ایماندارلوگوں کا کانشنس جس کو مسیح کے بیان سے بھی پوری پوری مددمل گئی ہے کسی اور طرف اپنا رخ کر سکتا ہے اور مسیحی لوگ تو اس وقت سے دس برس پہلے اپنی یہ پیشگوئی بھی انگریزی اخباروں کے ذریعہ سے شائع کر چکے ہیں کہ تین برس تک مسیح آسمان سے اترنے والا ہے۔ اب جو خدائے تعالیٰ نے اُس اُترنے والے کا نشان دیا تو مسیحیوں پر لازم ہے کہ سب سے پہلے وہی اس کو قبول کریں تا اپنی پیشگوئی کے آپ ہی مکذب نہ ٹھہریں۔ عیسائی لوگ اس بات کے بھی قائل ہیں کہ حضرت مسیح اٹھائے جانے کے بعد بہشت میں داخل ہو گئے۔ لوکا کی انجیل میں خود حضرت مسیح ایک چور کو تسلی دے کر کہتے ہیں کہ آج تو میرے ساتھ بہشت میں داخل ہوگا۔ اور عیسائیوں کا یہ عقیدہ بھی متفق علیہ ہے کہ کوئی شخص بہشت میں داخل ہوکر پھر اس سے نکالا نہیں جائے گا گو کیسا ہی ادنیٰ درجہ کا آدمی ہو چنانچہ یہی عقیدہ مسلمانوں کا بھی ہے۔ اللہ جل شانہ قرآن شریف میں فرماتا ہے وَمَا هُمْ مِنْهَا بِمُخْرَجِينَ " یعنی جو لوگ بہشت میں داخل کئے جائیں گے پھر اس سے نکالے نہیں جائیں گے اور قرآن شریف میں اگر چہ حضرت مسیح کے بہشت میں داخل ہونے کا یہ تصریح کہیں ذکر نہیں لیکن ان کے وفات پا جانے کا تین جگہ ذکر ہے اور مقدس بندوں کے لئے وفات پانا اور بہشت میں داخل ہونا ایک ہی حکم میں ہے کیا حاشیه دیکھوانجیل لوقا باب ۲۳ آیت ۴۳ حاشیہ: قال الله تعالى: فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِى كُنتَ اَنْتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ دیکھو سورة مائده الجز نمبرے وَانْ مِنْ اَهْلِ الْكِتَبِ إِلَّا لَيُؤْ مِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِ سے سورة النساء الجزو نمبر 4 إِذْ قَالَ اللهُ يُعِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيْكَ وَرَافِعُكَ اِلَى " سورة آل عمران الجز و نمبر ۳ منه الحجر :۴۹ المائدة : ١١٨ النساء : ١٦٠ ال عمران : ۵۶