توضیح مرام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 56 of 748

توضیح مرام — Page 56

روحانی خزائن جلد ۳ ۵۶ ایسی گستاخی ہو سکتی ہے؟ ہر گز نہیں اور یہ امر بھی قابل اظہار ہے کہ یہ خیال مذکورہ بالا جو کچھ عرصہ سے مسلمانوں میں پھیل گیا ہے صحیح طور پر ہماری کتابوں میں اس کا نام ونشان نہیں بلکہ احادیث نبویہ کی غلط فہمی کا یہ ایک غلط نتیجہ ہے جس کے ساتھ کئی بے جا حاشیے لگا دیئے گئے ہیں اور بے اصل موضوعات سے ان کو رونق دی گئی ہے اور تمام وہ امور نظر انداز کر دیئے گئے ہیں۔ جو مقصود اصلی کی طرف رہبر ہو سکتے ہیں۔ اس بارے میں نہایت صاف اور واضح حدیث نبوی وہ ہے جو امام محمد اسمعیل بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں بروایت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ لکھی ہے اور وہ یہ ہے کیف انتم اذا نزل ابن مريم فيكم و امامکم منکم یعنی اس دن تمہارا کیا حال ہو گا جب ابن مریم تم میں اترے گا وہ کون ہے؟ وہ تمہارا ہی ایک امام ہوگا جو تم ہی میں سے پیدا ہوگا۔ پس اس حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صاف فرما دیا کہ ابن مریم سے یہ مت خیال کرو کہ سچ سچے مسیح بن مریم ہی اتر آئے گا بلکہ یہ نام استعارہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے ور نہ در حقیقت وہ تم میں سے تمہاری ہی قوم میں سے تمہارا ایک امام ہو گا جو ابن مریم کی سیرت پر پیدا کیا جائے گا۔ اس جگہ پرانے خیالات کے لوگ اس حدیث کے معنے اس طرح پر کرتے ہیں کہ جب حضرت مسیح آسمان سے اتریں گے تو وہ اپنے منصب نبوت سے مستعفی ہو کر آئیں گے۔ انجیل سے انہیں کچھ غرض نہیں ہوگی۔ امت محمدیہ میں داخل ہو کر قرآن شریف پر عمل کریں گے۔ پنج وقت نماز پڑھیں گے اور مسلمان کہلائیں گے!!! مگر یہ بیان نہیں کیا گیا کہ کیوں اور کس وجہ سے یہ تنزل کی حالت انہیں پیش آئے گی بہر حال اس قدر ہمارے بھائیوں مسلمان محمد یوں نے آپ ہی مان لیا ہے کہ ابن مریم اس دن ایک مرد مسلمان ہو گا جو اپنے تئیں امت محمدیہ میں سے ظاہر کرے گا اور ۱۳) اپنی نبوت کا نام بھی نہ لے گا جو پہلے اس کو عطا کی گئی تھی ۔ اور در حقیقت یہی ایک بھاری مشکل ہے کہ جو استعارہ کو حقیقت پر حمل کرنے سے ہمارے بھائیوں کو پیش آگئی ہے جس کی وجہ سے انہیں ایک نبی کا اپنے منصب نبوت سے محروم ہو جانا تجویز کرنا پڑا۔ اگر وہ ان صاف اور سیدھے معنوں کو