توضیح مرام — Page 78
روحانی خزائن جلد۳۔ ZA (۵۳) اندھیری رات سے بھی انسان کامل کو ایک مشابہت ہے کہ وہ باوجود غایت درجہ کے انقطاع اور تل کے جو اس کو منجانب اللہ حاصل ہے بہ حکمت و مصلحت الہی اپنے نفس کی ظلمانی خواہشوں کی طرف بھی کبھی کبھی متوجہ ہو جاتا ہے یعنی جو جو نفس کے حقوق انسان پر رکھے گئے ہیں جو بظاہر نورانیت کے مخالف اور مزاحم معلوم ہوتے ہیں جیسے کھانا پینا سونا اور بیوی کے حقوق ادا کرنا یا بچوں کی طرف التفات کرنا یہ سب حقوق بجالاتا ہے اور کچھ تھوڑی دیر کے لئے اس تاریکی کو (۵۴) اپنے لئے پسند کر لیتا ہے نہ اس وجہ سے کہ اس کو حقیقی طور پر تاریکی کی طرف میلان ہے بلکہ اس وجہ سے کہ خداوند علیم و حکیم اس کو اس طرف توجہ بخشتا ہے تا روحانی تعب و مشقت سے کسی قدر آرام پا کر پھر ان مجاہدات شاقہ کے اٹھانے کے لئے تیار ہو جائے جیسا کہ کسی کا شعر ہے چشم شہباز کاردانان شکار از بهر کشادن ست گردوخته اند سواسی طرح یہ کامل لوگ جب غایت درجہ کی کوفت خاطر اور گدازش اور ہم و غم کے غلبہ کے وقت کسی قدر حظوظ نفسانیہ سے تمتع حاصل کر لیتے ہیں تو پھر جسم ناتواں ان کا روح کی رفاقت کے لئے مختلف قسموں کی تاثیرات ڈالتا ہے اور ہر یک متشکل کی وجہ سے ایک خاص نام اُسکو حاصل ہے اور یکشنبه دوشنبه سه شنبه و غیره در حقیقت باعتبار خاص خاص تعینات دلوازم و تاثیرات کے سورج کے ہی نام ہیں جب یہ لوازم خاصہ بولنے کے وقت ذہن میں ملحوظ نہ رکھے جائیں اور صرف مجرد اور اطلاقی حالت میں نام لیا جائے تو اس وقت سورج کہیں گے لیکن جب اسی سورج کے خاص خاص لوازم اور تاثیرات اور مقامات ذہن میں محوظ رکھ کر بولیں گے تو اس کو کبھی دن کہیں گے اور کبھی رات کبھی اسکا نام اتوار رکھیں گے اور کبھی پیر اور کبھی سانوں اور کبھی بھادوں کبھی اسوج کبھی کا تک۔ غرض یہ سب سورج کے ہی نام ہیں اور نفس انسان باعتبار مختلف تعینات اور مختلف اوقات و مقامات و حالات مختلف ناموں سے موسوم ہو جاتا ہے کبھی نفس زکیہ کہلاتا ہے اور کبھی امارہ کبھی لوامہ اور کبھی مطمئنہ ۔ غرض اس کے بھی اتنے ہی نام ہیں جس قد رسورج کے مگر بخوف طول اسی قدر بیان کرنا کافی سمجھا گیا۔ منہ ۵۳