توضیح مرام — Page 77
روحانی خزائن جلد۳ 22 توضیح مرام شاہی خادموں کی طرح سجدات تعظیم انسان کامل کے آگے بجا لا رہے ہیں ایسا ہی خدائے تعالی نے سورۃ الشمس میں نہایت لطیف اشارات و استعارات میں انسان کامل کے مرتبہ کو زمین آسمان کے تمام باشندوں سے اعلیٰ و برتر بیان فرمایا ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے وَالشَّمْس وَضُحَهَا وَالْقَمَرِ إِذَا تَلَهَا - وَالنَّهَارِ إِذَا جَلْهَا - وَالَّيْلِ إِذَا يَغْشُهَا وَالسَّمَاءِ وَمَا بَنُهَا وَالْأَرْضِ وَمَاطَحَهَا وَنَفْسٍ وَمَاسَوتها - فَأَلْهَمَهَا فُجُوْرَهَا وَتَقُوبَهَا قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّهَا وَقَدْ خَابَ مَنْ دَشْهَا - كَذَّبَتْ ثَمُودُ بِطَغُونَهَا - إِذِ انْبَعَثَ (۵۱) آشْقُهَا فَقَالَ لَهُمُ رَسُولُ اللهِ نَاقَةَ اللهِ وَسُقَيْهَا فَكَذَّبُوهُ فَعَقَرُوهَا فَدَ مُدَمَ عَلَيْهِمْ رَبُّهُمْ بِذَنْبِهِمْ فَسَوْبَهَا وَلَا يَخَافُ عُقْبُهَا يعنی قسم ۔ سورج کی اور اس کی دھوپ کی اور قسیم ہے چاند کی جب وہ سورج کی پیروی کرے اور قسم ہے دن کی جب اپنی روشنی کو ظاہر کرے اور قسم ہے اس رات کی جو بالکل تاریک ہو اور قسم ہے زمین کی اور اُس کی جس نے اسے بچھایا اور قسم ہے انسان کے نفس کی اور اس کی جس نے اسے اعتدال کامل اور وضع استقامت کے جمیع کمالات متفرقہ عنایت کئے اور کسی کمال سے محروم نہ رکھا بلکہ سب کمالات متفرقہ جو پہلی قسموں کے نیچے ذکر کئے گئے ہیں اس میں جمع کر دیے اس طرح پر کہ انسان کامل کا نفس آفتاب اور اس کی دھوپ کا بھی کمال اپنے اندر رکھتا ہے اور چاند کے خواص بھی اس میں پائے جاتے ہیں کہ وہ اکتساب فیض دوسرے سے کر سکتا ہے اور ایک نور سے بطور استفادہ اپنے اندر بھی نور لے سکتا ہے اور اُس میں روز روشن کے بھی خواص موجود ہیں کہ جیسے (۵۲) محنت اور مزدوری کرنے والے لوگ دن کی روشنی میں کما حقہ اپنے کاروبار کو انجام دے سکتے ہیں ایسا ہی حق کے طالب اور سلوک کی راہوں کو اختیار کرنے والے انسان کامل کے نمونہ پر چل کر بہت آسانی اور صفائی سے اپنی مہمات دینیہ کو انجام دیتے ہیں سو وہ دن کی طرح اپنے تیں بکمال صفائی ظاہر کر سکتا ہے اور ساری خاصیتیں دن کی اپنے اندر رکھتا ہے حاشیه : سورج بہ حکمت کا ملہ الہی سات سو میں تعینات میں اپنے تئیں متشکل کر کے دنیا پر الشمس : ۲ تا ۱۶