توضیح مرام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 79 of 748

توضیح مرام — Page 79

روحانی خزائن جلد۳ ۷۹ از سرنو قوی اور توانا ہو جاتا ہے اور اس تھوڑی سی محجوبیت کی وجہ سے بڑے بڑے مراحل نورانی طے کر جاتا ہے اور ماسوا اس کے نفس انسان میں رات کے اور دوسرے خواص دقیقہ بھی پائے جاتے ہیں جن کو علم ہیئت اور نجوم اور طبعی کی باریک نظر نے دریافت کیا ہے ایسا ہی انسان کامل کے نفس کو آسمان سے بھی مشابہت ہے مثلاً جیسے آسمان کا پول اس قدر وسیع اور کشادہ ہے کہ کسی چیز سے پر نہیں ہو سکتا ایسا ہی ان بزرگوں کا نفس ناطقہ غایت درجہ کی وسعتیں اپنے اندر رکھتا ہے اور با وجود ہزار ہا معارف و حقائق کے حاصل کرنے کے پھر بھی ماعرفناک کا نعرہ مارتا (۵۵) ہی رہتا ہے اور جیسے آسمان کا پول روشن ستاروں سے پُر ہے ایسا ہی نہایت روشن قومی اس میں بھی رکھے گئے ہیں کہ جو آسمان کے ستاروں کی طرح چمکتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ایسا ہی انسان کامل کے نفس کو زمین سے بھی کامل مشابہت ہے یعنی جیسا کہ عمدہ اور اول درجہ کی زمین یہ خاصیت رکھتی ہے کہ جب اُس میں تخم ریزی کی جائے اور پھر خوب قلبہ رانی اور آبپاشی ہو اور تمام مراتب محنت کشادزری کے اس پر پورے کر دیئے جائیں تو وہ دوسری زمینوں کی نسبت ہزار گونہ زیادہ پھل لاتی ہے اور نیز اس کا پھل بہ نسبت اور پھلوں کے نہایت لطیف اور شیریں ولذیذ اور اپنی کمیت و کیفیت میں انتہائی درجہ تک بڑھا ہوا ہوتا ہے اسی طرح انسان کامل کے نفس کا حال ہے کہ احکام الہی کی تخم ریزی سے عجیب سرسبزی لے کر اس کے اعمال صالحہ کے پودے نکلتے ہیں اور ایسے عمدہ اور غایت درجہ کے لذیذ اس کے پھل ہوتے ہیں کہ ہر یک دیکھنے والے کو خدائے تعالی کی پاک قدرت یاد آ کر سبحان اللہ سبحان اللہ کہنا پڑتا ہے سو یہ آیت وَنَفْسٍ وَ مَا سَوتها صاف طور پر بتلا رہی ہے کہ انسان کامل (۵۶) اپنے معنے اور کیفیت کے رو سے ایک عالم ہے اور عالم کبیر کے تمام شیون وصفات و خواص اجمالی طور پر اپنے اندر جمع رکھتا ہے جیسا کہ اللہ جل شانہ نے شمس کی صفات سے شروع کر کے زمین تک جو ہماری سکونت کی جگہ ہے سب چیزوں کے خواص اشارہ کے طور پر بیان فرمائے الشمس :