تحفۂ قیصریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 259 of 494

تحفۂ قیصریہ — Page 259

روحانی خزائن جلد ۱۲ ۲۵۹ ایک ایسے شخص کا پیرو خیال کرتے ہیں جو ان کی دانست میں دراصل وہ کا ذب اور 2 مفتری ہے تو وہ اس خیال سے بہت سے فتنوں کی بنیاد ڈالتے ہیں اور وہ ضرور تو ہین کے جرائم کے مرتکب ہوتے ہیں اور اس نبی کی شان میں نہایت گستاخی کے الفاظ بولتے ہیں اور اپنے کلمات کو گالیوں کی حد تک پہنچاتے ہیں اور صلح کاری اور عامہ خلائق کے امن میں فتور ڈالتے ہیں حالانکہ یہ خیال ان کا بالکل غلط ہوتا ہے اور وہ اپنے گستاخانہ اقوال میں خدا کی نظر میں ظالم ہوتے ہیں۔ خدا جو رحیم و کریم ہے وہ ہرگز پسند نہیں کرتا جو ایک جھوٹے کو ناحق کا فروغ دے کر اور اسکے مذہب کی جڑ جما کر لوگوں کو دھوکہ میں ڈالے اور نہ جائز رکھتا ہے کہ ایک شخص با وجود مفتری اور کذاب ہونے کے دنیا کی نظر میں سچے نبیوں کا ہم پلہ ہو جائے ۔ پس یہ اصول نہایت پیارا اور امن بخش اور صلح کاری کی بنیاد ڈالنے والا اور اخلاقی حالتوں کو مدد دینے والا ہے کہ ہم ان تمام نبیوں کو سچا سمجھ لیں جو دنیا میں آئے ۔ خواہ ہند میں ظاہر ہوئے یا فارس میں یا چین میں یا کسی اور ملک میں اور خدا نے کروڑہا دلوں میں ان کی عزت اور عظمت بٹھا دی اور ان کے مذہب کی جڑ قائم کر دی۔ اور کئی صدیوں تک وہ مذہب چلا آیا ۔ یہی اصول ہے جو قرآن نے ہمیں سکھلایا۔ اسی اصول کے لحاظ سے ہم ہر ایک مذہب کے پیشوا کو جن کی سوانح اس تعریف کے نیچے آگئی ہیں عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں گو وہ ہندوؤں کے مذہب کے پیشوا ہوں یا فارسیوں کے مذہب کے یا چینیوں کے مذہب کے یا یہودیوں کے مذہب کے یا عیسائیوں کے مذہب کے مگر افسوس کہ ہمارے مخالف ہم سے یہ برتاؤ نہیں کر سکتے اور خدا کا یہ پاک اور غیر متبدل قانون ان کو یاد نہیں کہ وہ جھوٹے نبی کو وہ برکت