تحفۂ قیصریہ — Page 258
روحانی خزائن جلد ۱۲ ۲۵۸ تحفہ قیصریہ ملا زم بن کر نا جائز حکومت کو عمل میں لاوے۔ اور ایسا ظاہر کرے کہ وہ گورنمنٹ کا کوئی عہدہ دار ہے حالانکہ وہ عہدہ دار کیا کسی ادنیٰ درجہ کا ملازم بھی نہیں ۔ سو یہی قانون خدا تعالیٰ کی قدیم سنت میں داخل ہے کہ وہ نبوت کے جھوٹا دعوی کرنے والے کو مہلت نہیں دیتا بلکہ ایسا شخص جلد پکڑا جاتا اور اپنی سزا کو پہنچ جاتا ہے۔ اس قاعدہ کے لحاظ سے ہمیں چاہیے کہ ہم ان تمام لوگوں کو عزت کی نگاہ سے دیکھیں اور ان کو سچا سمجھیں جنہوں نے کسی زمانہ میں نبوت کا دعوی کیا اور پھر وہ دعوی ان کا جڑ پکڑ گیا اور ان کا مذہب دنیا میں پھیل گیا اور استحکام پکڑ گیا اور ایک عمر پا گیا اور اگر ہم ان کے مذہب کی کتابوں میں غلطیاں پائیں یا اس مذہب کے پابندوں کو بد چلنیوں میں گرفتار مشاہدہ کریں تو ہمیں نہیں چاہئے کہ وہ سب داغ ملالت ان مذاہب کے بانیوں پر لگا دیں۔ کیونکہ کتابوں کا محرف ہو جانا ممکن ہے۔ اجتہادی غلطیوں کا تفسیروں میں داخل ہو جانا ممکن ہے لیکن یہ ہرگز ممکن نہیں کہ کوئی شخص کھلا کھلا خدا پر افترا کرے اور کہے کہ میں اس کا نبی ہوں اور اپنا کلام پیش کرے اور کہے کہ یہ خدا کا کلام ہے حالانکہ وہ نہ نبی ہو اور نہ اس کا کلام خدا کا کلام ہو۔ اور پھر خدا اس کو بچوں کی طرح مہلت دے اور بچوں کی طرح اس کی قبولیت پھیلائے۔ الہذا یہ اصول نہایت صحیح اور نہایت مبارک اور باوجود اس کے صلح کاری کی بنیاد ڈالنے والا ہے کہ ہم ایسے تمام نبیوں کو بچے نبی قرار دیں ۔ جن کا مذہب جڑ پکڑ گیا اور عمر پا گیا اور کروڑ ہا لوگ اس مذہب میں آگئے ۔ یہ اصول نہایت نیک اصول ہے اور اگر اس اصل کی تمام دنیا پابند ہو جائے تو ہزاروں فساد اور توہین مذہب جو مخالف امن عامہ خلائق ہیں اٹھ جائیں ۔ یہ تو ظاہر ہے کہ جو لوگ کسی مذہب کے پابندوں کو