تحفۂ قیصریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 260 of 494

تحفۂ قیصریہ — Page 260

روحانی خزائن جلد ۱۲ ۲۶۰ اور عزت نہیں دیتا جو بچے کو دیتا ہے اور جھوٹے نبی کا مذ ہب جڑ نہیں پکڑتا اور نہ عمر پاتا ہے جیسا کہ بچے کا جڑ پکڑتا اور عمر پاتا ہے۔ پس ایسے عقیدہ والے لوگ جو قوموں کے نبیوں کو کاذب قرار دے کر برا کہتے رہتے ہیں ہمیشہ صلح کاری اور امن کے دشمن ہوتے ہیں کیونکہ قوموں کے بزرگوں کو گالیاں نکالنا اس سے بڑھ کر فتنہ انگیز اور کوئی بات نہیں ۔ بسا اوقات انسان مرنا بھی پسند کرتا ہے مگر نہیں چاہتا کہ اس کے پیشوا کو بُرا کہا جائے۔ اگر ہمیں کسی مذہب کی تعلیم پر اعتراض ہو تو ہمیں نہیں چاہیے کہ اس مذہب کے نبی کی عزت پر حملہ کریں اور نہ یہ کہ اس کو برے الفاظ سے یاد کریں بلکہ چاہیے کہ صرف اس قوم کے موجودہ دستور العمل پر اعتراض کریں اور یقین رکھیں کہ وہ نبی جو خدا تعالیٰ کی طرف سے کروڑ ہا انسانوں میں عزت پا گیا اور صدہا برسوں سے اس کی قبولیت چلی آتی ہے یہی پختہ دلیل اس کے منجانب اللہ ہونے کی ہے۔ اگر وہ خدا کا مقبول نہ ہوتا تو اس قدر عزت نہ پاتا۔ مفتری کو عزت دینا اور کروڑہا بندوں میں اس کے مذہب کو پھیلانا اور زمانہ دراز تک اس کے مفتریا نہ مذہب کو محفوظ رکھنا خدا کی عادت نہیں ہے۔ سو جو مذہب دنیا میں پھیل جائے اور جم جائے اور عزت اور عمر پا جائے وہ اپنی اصلیت کے رو سے ہرگز جھوٹا نہیں ہوسکتا۔ پس اگر وہ تعلیم قابل اعتراض ہے تو اس کا سبب یا تو یہ ہوگا کہ اس نبی کی ہدایتوں میں تحریف کی گئی ہے اور یا یہ سبب ہوگا کہ ان ہدایتوں کی تفسیر کرنے میں غلطی ہوئی ہے اور یا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ خود ہم اعتراض کرنے میں حق پر نہ ہوں۔ چنانچہ دیکھا جاتا ہے کہ بعض پادری صاحبان اپنی کم فہمی کی وجہ سے قرآن شریف کی ان باتوں پر اعتراض کر دیتے ہیں جن کو توریت میں صحیح اور خدا کی تعلیم مان چکے ہیں ۔ سو ایسا اعتراض خود اپنی غلطی یا شتاب کاری ہوتی ہے۔