تحفۂ غزنویہ — Page 567
روحانی خزائن جلد ۱۵ تحفه غزنویه سے کام لیا ہے کہ کوئی مومن باللہ ایسی دلیری نہیں کر سکتا۔ اب سچ کہہ اے میاں عبدالحق کیا کوئی مومن باللہ ایسی دلیری کرسکتا ہے جو میاں عبداللہ نے کی کہ مفتری کا نام صادق اور آسمانی نور رکھا۔ خدا تعالیٰ تو مفتریوں پر لعنت بھیجتا ہے پس جس شخص نے ایسا جھوٹا الہام اور کشف بنایا کہ یہ بیان کیا کہ مرزا غلام احمد قادیانی پر خدا تعالیٰ کا نور نازل ہوا اور میری اولاد اُس سے بے نصیب رہ گئی اُس کی نسبت آپ لوگوں کا کیا فتویٰ ہے۔ ضرور یہ فتویٰ شائع کرنا چاہیئے ۔ وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللهِ كَذِبًا ۔ آپ تو یہ رونا روتے تھے کہ نعوذ باللہ میں نے جھوٹ بولا ہے۔ اب آپ کے اقرار سے یہ ثابت ہوا کہ عبداللہ غزنوی کئی مرتبہ خدا پر جھوٹ بول کر اور حضرت احدیت پر افترا کر کے اس دنیا سے گذر گیا ہے اور جو خدا پر افترا کرے اُس سے بدتر کون ہوسکتا ہے۔ مرا خواندی و خود بدام آمدی نظر پخته تر کن که خام آمدی قوله - تین صریح جھوٹ ثابت کرتا ہوں جو کسی ایماندار بلکہ ذرہ شرم و حیا والے آدمی کا کام نہیں۔ اقول ۔ اے شرم اور حیا سے دور اس تیرے قول سے بھی میں کچھ رنج نہیں کرتا کیونکہ پہلے بے ایمانوں کے طریق اور عادت کو تو نے پورا کیا۔ ہر ایک نبی اور خدا کا مامور اور صادق اور صدیق جو دنیا میں آیا اُس کو بد بخت کفار نے جھوٹا کہا بلکہ کذاب نام رکھا اور تو نے ساری جانکا ہی سے تین مقام پیش کئے جن میں تیرے زعم باطل میں میں نے جھوٹ بولا ہے اور وہ تین مقام یہ ہیں جن کا جواب دیتا ہوں۔ قولہ ۔ اوّل جھوٹ یہ ہے کہ صفحہ پانچ سطر ۲۰ و ۲۱ میں لکھا ہے کیونکہ قرآن شریف میں حضرت مسیح کی نسبت لما توفیتنی فرمانا اور حدیثوں میں الانعام : ۹۴