تحفۂ غزنویہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 568 of 769

تحفۂ غزنویہ — Page 568

روحانی خزائن جلد ۱۵ ۵۶۸ جیسا کہ بخاری میں ہے۔ اس کے معنے امتنی بیان کرنا۔ تحفه غزنویه اقول ۔ اس نادان معترض کی اس پوچ اور لچر عبارت کا حاصل مطلب یہ ہے کہ صحیح بخاری میں اس جگہ آیت یا عیسی انی متوفیک کی تفسیر میں یہ قول ہے کہ متوفیک ممیتک یہ قول نہیں کہ لما توفیتنی۔ امتنی ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اس جگہ میری کلام کا اصل مقصود احادیث کا خلاصہ مطلب بیان کرنا ہے نہ یہ کہ کسی حدیث کے ٹھیک ٹھیک لفظ لکھنا جیسا کہ میرے اس فقرہ کے ذکر کرنے سے کہ اور حدیثوں میں یعنی بخاری وغیرہ میں۔ یہ میرا مدعا سمجھا جاتا ہے اور منصف کو میرے کلام پر غور کرنے سے شک نہیں رہے گا کہ میرا مد عا اس جگہ حرف احادیث کا خلاصہ اور مال اقوال لکھنا ہے نہ نقل عبارت اور ظاہر ہے کہ جو شخص مثلاً میں ایسی حدیثوں کے معنے بیان کرنے لگتا ہے جو مختلف الفاظ میں آئی ہیں اور تال واحد ہے تو اُس کو اُن احادیث کا حاصل مطلب لکھنا پڑتا ہے تا وہ لفظ سب پر منطبق ہو اور نیز اصل مقصود کا مفسر ہو جائے۔ اسی طرح اصل مقصود بخاری وغیرہ کا امتنی ہے جو ذکر کے قابل تھا اور اگر چہ خاص بخاری کا لفظ متوفیک ممیتک ہے مگر میرے بیان میں صرف بخاری کے الفاظ پر حصر نہیں رکھا گیا۔ عموماً احادیث کی بحث ہے بخاری ہو یا غیر بخاری اور پھر یہ بھی ظاہر ہے کہ خود بخاری نے اس مقام میں اس آیت یعنی فلما توفیتنی کو بغرض تظاہر آیتین ذکر کر کے جتلا دیا ہے کہ یہی تفسیر فـلـمـا تـو فیتنی کی ہے اور وہی استدلال قول ابن عباس کا اس جگہ صحیح ہے جیسا کہ انی متوفیک میں صحیح ہے اور نیز اس جگہ یہ یادر ہے کہ خدا تعالیٰ جو اصدق الصادقین ہے اُس نے اپنی کلام میں صدق کو دو قسم قرار دیا ہے ایک صدق باعتبار ظاہر الاقوال دوسرے صدق باعتبار التاویل والمآل ۔ پہلی قسم صدق کی مثال یہ ہے کہ جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ عیسی مریم کا بیٹا تھا اور