تحفۂ غزنویہ — Page 566
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۵۶۶ تحفه غزنویه ہو جائیں گے۔ اور اس فیض سے بے نصیب رہ جائیں گے حافظ محمد یوسف صاحب اب تک زندہ ہیں ایک مجلس مقرر کرو اور مجھے اس میں بلا ؤ اور پھر ان دونوں بزرگوں کو خدا کی قسم دے کر پوچھو کہ یہ دونوں واقعات اُنہوں نے بیان کئے ہیں یا نہیں اور یہ لوگ تمہاری جماعت میں سے ہیں اور نیز مولوی عبداللہ کے مربی اور محسن بھی ۔ اب بتلاؤ کہ کیسی تمہاری جان شکنجہ میں آگئی اور کس طرح صفائی سے ثابت ہو گیا کہ تم ہی مفتری ہو خدا اپنی مخلوق کو تمہارے افتراؤں سے اپنی پناہ میں رکھے۔ آمین قوله - مرزا کی کتابیں اس قسم کے جھوٹ اور افتر اؤں سے بھری ہوئی ہیں کہ کوئی مومن باللہ ایسی دلیری نہیں کر سکتا۔ اقول ۔ اس تقریر کا دوسرے لفظوں میں مال یہ ہے کہ عبد اللہ غزنوی نے ایسے مفتری کا نام صادق اور منجانب اللہ رکھ کر ایک ایسے جھوٹ اور افترا حملا معلوم ہوتا ہے کہ یہ کشف اُس زمانہ کا ہے جبکہ یہ راقم اپنی عمر کے ابتدائی زمانہ میں مولوی عبد اللہ صاحب کو بمقام خیر وی جا کر ملا تھا اور تفاول نکالا تھا کہ مجھے خیر اور بہتری ملی ۔ تب عبد اللہ صاحب کو اپنی نسبت دعا کے لئے کہا تو انہوں نے دو پہر کے وقت شدت گرمی میں گھر میں جا کر میری نسبت دعا کی اور میری نسبت اپنا ایک الہام سنایا اور وہ یہ کہ انـت مـولا نــا فانصرنا على القوم الکافرین اور بوقت ظہر گھر سے واپس آکر قسم کے ساتھ مجھے کہا کہ خدا کی مجھ سے یہ عادت نہ تھی جو تمہارے معاملہ میں ظہور میں آئی اور اپنی فارسی زبان میں فرمایا کہ اس الہام سے تو یہ سمجھا جاتا ہے کہ صحابہ کے رنگ پر تمہارے شامل حال نصرت الہی رہے گی۔ اور پھر میں قادیاں میں آیا تو ایک خط ڈاک میں بھیجا جس میں مکررا یہی الہام تھا اور شاید بعض اور فقرے بھی تھے۔ پس معلوم ہوتا ہے کہ مولوی صاحب ممدوح نے اسی تقریب اور تحریک سے قادیاں پر نور نازل ہوتا دیکھا۔ اچھا آدمی تھا خدا اُس پر رحمت نازل کرے آمین۔ منہ