تحفۂ غزنویہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 556 of 769

تحفۂ غزنویہ — Page 556

روحانی خزائن جلد ۱۵ تحفه غزنویه موقع کے سمجھنے میں غلطی بھی کر سکتا ہے چنانچہ علماء اس پر دلیل حدیث ذَهَبَ وَهْلِی کو پیش کرتے ہیں جو بخاری میں موجود ہے۔ اور اس سے یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ کسی تاویل کی غلطی سے پیشگوئی غلط نہیں ٹھہر سکتی اور نہ غیر الہامی ٹھہر سکتی ہے پس جب نبیوں کی پیشگوئی میں یہاں تک وسعت ہے کہ نبی کے غلط معنے پیشگوئی کو کچھ حرج نہیں پہنچاتے تو پھر اعتراض اُسی صورت میں ہوگا جبکہ الہام کا اسی کے الفاظ سے غلط ہونا ثابت ہو جائے۔ قولہ ۔ مرزا یقینا جانتا ہے کہ اس فضول کام کے لئے نہ کسی نے آنا ہے اور نہ یہ کام ہونا ہے مفت کی میری شیخی مشہور ہو جائے گی ۔ اقول ۔اے ناسمجھ خدا سے ڈر کیا دین کے کام کو فضول کام کہتا ہے کیا خدا کے نبی فضول کام میں ہی مشغول رہے۔ اے عزیز! کیا یہ کام فضول ہے جس سے ہزار ہا جانیں جھوٹ اور ضلالت سے نجات پاتی ہیں اور اندرونی تفرقہ اس امت کا جس نے مسلمانوں کو کمزور کر دیا ہے دور ہوتا ہے۔ اگر یہ کام فضول ہے تو کیا دوسرے کام شریعت کے لئے ضروری تھے جو آپ لوگ کر رہے ہیں۔ مثلاً نذیر حسین دہلوی با وجود پیرانہ سالی کے شیخ محمد حسین بٹالوی کے لڑکے کی شادی پر بٹالہ آیا اور سیالکوٹ کے ضلع تک گیا۔ بجز کھانے پینے کے اور کیا غرض تھی۔ اس زمانہ میں مسلمانوں کی حالت اسی وجہ سے انحطاط میں ہے کہ حال کے مولوی ضروری کاموں کا نام فضول کام رکھتے ہیں اور اپنی نفسانی تجارتوں کے لئے عدن اور مستقط تک سیر کر آتے ہیں اس کو کوئی فضول نہیں سمجھتا مگر تائید اسلام کے کاموں کو غیر ضروری سمجھتے ہیں اور یوں گوشت پلاؤ کھانے اور شادیوں کی دعوتوں میں شامل ہونے کے لئے صد ہا کوس چلے جاتے ہیں۔ یہ خوب دینداری ہے کہ یوں تو ملک میں شور مچارہے ہیں کہ گویا اس جماعت میں داخل ہو کر تمیں ہزار آدمی کافر ہو گیا اور ہوتا جاتا ہے اور جب