تحفۂ غزنویہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 555 of 769

تحفۂ غزنویہ — Page 555

روحانی خزائن جلد ۱۵ تحفه غزنویه وقت اُن کو یہ بھی یاد نہیں رہتا کہ اعتراض کا کوئی موقع بھی ہے یا نہیں ۔ اے نادان ! خدا تعالیٰ نے جیسا کہ وعدہ فرمایا تھا مجھے چار لڑ کے عطا فرمائے اور ہر ایک لڑکے کی پیدائش سے پہلے مجھے اپنی خاص وحی کے ذریعہ سے اس کے پیدا ہونے کی بشارت دی اور وہ ہر چہار بشارتیں ہر چہار اشتہار کے ذریعہ سے قبل از وقت دنیا میں شایع کی گئیں جن کے لاکھوں انسان ان ملکوں میں گواہ ہیں ۔ پھر میں سمجھ نہیں سکتا کہ اعتراض کیا ہوا ۔ اعتراض تو تمہاری حالت پر واقع ہوتا ہے کہ منہ سے نکالا کہ خدا کے فضل (۲۵) سے میرے لڑکا ہوگا اور اس پیشگوئی کو اشتہار میں شائع کیا اور پھر وہ لڑکا اندر ہی اندر تحلیل پا گیا ۔ باہر آنا اُس کو نصیب نہ ہوا ۔ کاش وہ مردہ ہی پیدا ہوتا تا تمہارے ہاتھ میں کچھ تو بات رہ جاتی۔ یہ بھی مباہلہ کا بداثر تم پر پڑا کہ اولاد سے نا مراد رہے ۔ غرض میرے گھر میں تو اولاد کی بشارت کے بعد چار لڑکے ہوئے اور ہر ایک لڑکے کی پیدایش سے پہلے خدا نے خبر دی جس کو میں نے ہزار ہا لوگوں میں شائع کیا مگر تم بتلاؤ کہ تمہارے گھر میں کیا پیدا ہوا ۔ تم تو اب تک اس اعتراض کے نیچے ہو ۔ کاش ایک صادق سے مباہلہ نہ کرتے تو شاید اب تک لڑکا ہو جاتا ۔ سو آئینہ لے کر اپنا عیب دیکھو۔ میرے پر نکتہ چینی کا کوئی محل نہیں ۔ ہاں اگر میں نے کوئی ایسا الہام شائع کیا ہے جس کے یہ معنے ہوں کہ اسی الہام کے قریب حمل سے اور اسی سال میں لڑکا پیدا ہو گا تو وہ میرا الہام شائع کر دو مگر خبر دار کوئی اس قسم کا اعتراض پیش نہ کرنا جو اس سے پہلے بعض منافقوں نے حدیبیہ کے قصے پر پیش کیا تھا جس سے عمر فاروق کو خدا نے بچایا اور منافق ہلاک ہوئے ۔ اے عزیز کیوں میرے کینہ کے لئے شریعت محمدیہ سے دست بردار ہوتے ہو ۔ اس جگہ تو کوئی ہاتھ ڈالنے کی تمہیں جگہ نہیں اور با وصف اس کے یہ متفق علیہ عقیدہ ہے کہ کبھی نبی اپنی پیشگوئی کے محل اور