تحفۂ غزنویہ — Page 557
روحانی خزائن جلد ۱۵ تحفه غزنویه کہا جائے کہ آؤ فیصلہ کرو تو جواب ملتا ہے کہ اس فضول کام کے لئے علماء کو فرصت کہاں ہے اور کرایہ کے لئے خرچ کہاں۔ ہم اس وقت ایسے علماء کو خدا کی حجت پوری کرنے کے لئے کرایہ کی مدد دینے کو بھی حسب شرائط مذکورہ بالا طیار ہیں۔ کاش کسی طرح اُن کے دل سیدھے ہوں۔ اسلام سب مذہبوں پر غالب ہوتا ہے۔ یہ کیسا اسلام ان کے ہاتھ میں ہے جو ان کو تسلی نہیں دے سکتا۔ غرض اب ہم نے ان کا یہ عذر بھی توڑ دیا۔ قوله - اے نئے عیسائیو اور نیا گر جابنانے والو ۔ ہم ایک سہل اور نہایت آسان (۲۷) طریق بتلاتے ہیں۔ اقول ۔ اے حد سے بڑھنے والے کیا اُن مسلمانوں کا نام عیسائی رکھتا ہے جو اسلام کے حامی اور زمین پر حُجت اللہ ہیں۔ اگر مسلمان تیرے جیسے ہی ہوتے تو اسلام کا خاتمہ تھا۔ پھر اس کے بعد آپ نے تمسخر اور ٹھٹھے سے مولوی عبد الکریم صاحب کا ذکر کیا ہے اور نشان یہ مانگا ہے کہ مولوی صاحب موصوف کو جو ایک ٹانگ میں کچھ کمزوری ہے اور ایک آنکھ کی بصارت میں خلل ہے یہ دونوں عارضے جاتے رہیں ۔ اور اس ذکر سے اصل غرض آپ کی صرف ٹھٹھا اور جنسی ہے اور یہ مقولہ محض اُن کا فروں کی طرح ہے جونعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ابتر کہتے تھے اور یہ نشان ما نگتے تھے کہ اگر یہ سچا نبی ہے تو اس کے لڑکے جس قدر مر گئے ہیں اُن کو زندہ کر دے ۔ مگر ہم اس ٹھٹھے کا ابھی جواب دے چکے ہیں ۔ ظاہر ہے کہ انسان بوجہ اپنی انسانیت کے کسی نہ کسی نقص سے خالی نہیں ہوتا اور ہمیشہ امراض آفات بھی لاحق رہتے ہیں ۔ عزیز واقارب بھی مرتے ہیں لیکن کوئی شریف نشان مانگنے کے بہانہ سے اس طرح پر دل نہیں دکھاتا۔ یہ قدیم سے رزیلوں اور سفیہوں کا کام ہے اور ہمارے ملک میں اس قسم کا ٹھٹھا